انتخاب درد حصہ دوم
Poet: Khawaja Mir Dard By: Bakhtiar Nasir, Lahoreاوروں سے تو ہنستے ہو نظروں سے ملا نظریں
ادھر کو نظر کوئی پھینکی بھی تو دزدیدہ
کیا کہوں تجھ سے ہمنشین دل میں
برچھی سی لگتی ہے وہ ترچھی نگاہ
پگھلا تمہارا دل نہ میرے حال پر کبھی
ہر چند روتے روتے میں نے نالے بہا دئیے
سیلاب اشک گرم نے اعضا میرے تمام
اے درد! کچھ بہا دئیے اور کچھ جلا دئیے
جفا و جور اٹھانے پڑے زمانے کے
ہوس تھی جی میں کسو ناز کے اٹھانے کے
وہ اشک نکلتا ہے میری چشم سے جس کا
ہر قطرہ کم ازپارہ الماس نہیں ہے
جفا و جور تو ظالم سبھی گوارہ ہیں
مگر یہ رسم جدائی ہے ناگوار مجھے
وہ سرخ لباس اس کے گلے میں نظر آیا
جس کے ہیں میرے دل میں پڑے اب تئیں چھالے
جی کی جی میں ہی رہی بات نہ ہونے پائی
حیف ہے اس سے ملاقات نہ ہونے پائی
دید وا دید ہوئی دور سے میرے اسکی
پر جو میں چاہا تھا سو بات نہ ہونے پائی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






