اماوس میں اپنا قمر ڈھونڈتا ہوں
Poet: MeeR Hassan Khoso By: MeeR Hassan Khoso, JACOBABADکہیں کاش آئے نظر ڈھونڈتا ہوں
اماوس میں اپنا قمر ڈھونڈتا ہوں
جہاں ساتھ کوئی بھی دیتا نہیں ہے
اسی راہ پر ہمسفر ڈھونڈتا ہوں
جہاں نفرتوں کا نشاں تک نہ ہو میں
محبت کا ایسا نگر ڈھونڈتا ہوں
ابھی ابتدائے سفر ہی کیا ہے
ابھی انتہائے سفر ڈھونڈتا ہوں
ٹھکانا نہیں ہے کوئی ایک اسکا
میں ہو کے اسے دربدر ڈھونڈتا ہوں
میں خود کھو رہا ہوں اسے ڈھونڈنے میں
اندھیرا ہے ہر سو سحر ڈھونڈتا ہوں
بہت دھوپ ہے میرے جیون سفر میں
نہیں کوئی سایہ شجر ڈھونڈتا ہوں
بہت غم ملے ہیں اسی جستجو میں
دکھوں میں خوشی کا پہر ڈھونڈتا ہوں
مقدر کی راتیں مسلسل عیاں ہیں
مقدر کا کوئی سحر ڈھونڈتا ہوں
کبھی میر~ میں نے جنون_سفر میں
جو چھوڑا تھا اپنا، وہ کھر ڈھونڈتا ہوں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






