اب خود کو تلاش کروں میں کہا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaبہت الجھ گئی ہوں اپنی ہی سوچوں میں
اب خود کو تلاش کروں میں کہا
یوں تو ہیں ہزاروں خواہشیں مگر
اپنے دل کی خواہش کو تلاش کروں میں کہا
جو سنسان راستے میں تنہا چھوڑ گیا
ُاسے بھری دنیا میں تلاش کروں میں کہا
میری زندگی ہی میری دشمن بن گئی
اب موت سہلیی کو تلاش کروں میں کہا
یوں تو ہیں ہزاروں دعاویں مگر
جو قبول ہو ایسی دعا کو تلاش کروں میں کہا
اس دنیا سے تو دل بھر گیا ہیں میرا جہاں سے کبھی
جی نا بھرے ایسے جہاں کو تلاش کروں میں کہا
یوں تو خود کو کب کا ختم کر دیا ہیں مگر
اب بھلا جینے کے لیے راہوں کو تلاش کروں میں کہا
جہاں نا کوئی میری طرح زندہ ہو اور نا ہی مردہ ہو
میں اپنے لیے ایسی قبر کو تلاش کروں میں کہا
اب تو سجدوں میں بھی سکون نہیں ملتا
میں اپنے لیے سکون قلب کو تلاش کروں میں کہا
جس پھول کے ساتھ کوئی کانٹا نہ ہو لکی
میں ایسے پھول کو تلاش کروں میں کہا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






