آ تجھے بتاؤں کہ تیرے بن میری عید کیسے گزری بیں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaآ تجھے بتاوں کہ تیرے بن
میری عید کیسے گزری ہیں
وہ تاروں بھری رات میں
میری تنہائی کیسے گزری ہیں
وہ تنہائی کے پلوں میں
میری آنکھیں کیسے برسی ہیں
آ تجھے بتاوں کہ تیرے بن
میری عید کیسے گزری ہیں
میرے ہاتھوں سے مہندی کی
رنگت کیسے اتری ہیں
بادلوں میں چاند سے
چاندی کیسے بچھڑی ہیں
آ تجھے بتاوں کہ تیرے بن
میری عید کیسے گزری ہیں
وہ خوشی بھرے دن میں میری
ُاداسی کیسے مچلی ہیں
تیری راہوں میں دیپ جلا کر
میرے ہاتھوں میں شمع کیسے بگھلی ہیں
آ تجھے بتاوں کہ تیرے بن
میری عید کیسے گزری ہیں
جو پھول مرجھا گیے تیرے انتظار میں
جاناں ! ُان کے دلوں پے کیا گزری ہیں
چاہ کر بھی تجھے عید نا مل پائی میں
سوچ زرا عید ملے بناء میری عید کیسے گزری ہیں
آ تجھے بتاوں کہ تیرے بن
میری عید کیسے گزری ہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






