فیس بک٬ اپنی موت کے بعد پروفائل ڈیجیٹل مقبرے میں تبدیل کریں

یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص کی موت ایک دن ضرور واقع ہوگی اور یہ بھی حقیقیت ہے کہ وہ اپنی آن لائن شناخت ساتھ قبر میں نہیں لے جاسکے گا- ایسی صورت میں مرنے والے کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ڈیٹا چوری یا ہیک بھی ہوسکتا ہے-
 

image

فیس بک اس حوالے سے اپنے صارفین کو متعدد اختیارات فراہم کرتی ہے کہ صارف اپنے انتقال کی صورت میں اپنے فیس بک کے اکاؤنٹ کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے؟

ایک چیز تو یہ ہے کہ آپ اپنے کسی ایسے دوست کا انتخاب کریں جو آپ کی موت کے بعد آپ کے اکاؤنٹ کو سنبھالے- اور دوسرا آپشن یہ ہے کہ آپ ایسے سیٹ کردیں کہ آپ کی وفات کی صورت میں فیس بک خود آپ کا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کردے-

اگرچہ فیس بک اس وقت ہمارے بارے میں بہت کچھ جانتا ہے لیکن پھر بھی وہ یہ نہیں جانتا کہ ہماری موت کب ہوگی-

اپنا اکاؤنٹ حذف کرنے کے لیے آپ کو کسی ایسے دوست کی ضرورت ہوگی جو آپ کی موت کو ثابت کرے- آپ کا یہ دوست آپ کی موت کی صورت میں فیس بک سے رابطہ کر کے آپ ڈیتھ سرٹیفیکیٹ کی مدد سے آپ کا ڈیلیٹ کروا سکے گا-

اپنی موت کی صورت میں اکاؤنٹ حذف کرنے کے حوالے سے آپ فیس بک سیٹنگ میں موجود Memorialization settings نامی آپشن کے ذریعے فیس بک کو آگاہ کرسکتے ہیں-
 
image


فیس بک کو آگاہ کرنے کے بعد اگر دوبارہ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے مرنے کے بعد بھی آپ کا اکاؤنٹ دیکھا جاسکے تو اس کا آپشن بھی انہیں سیٹنگ میں موجود ہے-

فیس بک آپ کو اپنا اکاؤنٹ ایک یادگاری صفحے میں تبدیل کرنے کا اختیار بھی آپ کو دیتا ہے- فیس بک آپ کے انتقال کے بعد آپ کے تمام ڈیٹا کو محفوظ کر کے اکاؤنٹ کو ڈیجیٹل مقبرے میں تبدیل کردے گا-

اس کے لیے سیٹنگ میں آپ ایک دوست کا انتخاب کریں گے جسے آپ کا اکاؤنٹ مکمل طور پر اپ ڈیٹ یا استعمال کرنے کا اختیار حاصل ہوگا- تاہم یہ آپ کی گزشتہ پوسٹ یا پیغامات کو دیکھ یا کنٹرول نہیں کرسکے گا-
 

image


یوں یہ دوست آپ کی آن لائن شناخت کو آپ کے مرنے کے بعد بعد زندہ رکھ سکے گا-

YOU MAY ALSO LIKE:

Inevitably, one day you’re going to die. While you may think your online identity will go to the grave with you, that’s not always how it works out. Without setting your account to self-implode or handing your login details to a trusted person, companies like Facebook and Google will carry on storing your data and everything else they’ve got on you.