Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وزیر تجارت ہونے کے ساتھ بلوچستان کی نمائندگی بھی میری ذمہ داری ہے: جام کمال

نو منتخب وفاقی وزیر تجارت جام کمال کا کہنا ہے کہ ان کو پہلی مرتبہ وفاقی وزیر بنایا گیا ہے جو کہ وزیر مملکت کی نسبت ایک بڑی ذمہ داری ہے۔
اردو نیوز کے ساتھ گفتگو میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے کہا کہ ’موجودہ حالات میں وزیر تجارت کی ذمہ داریاں وسیع اور اہم ہیں۔ بطور وزیراعلٰی بلوچستان چار سال رہنے کے بعد اب اس قلمدان پر بہتر کارگردگی دکھانے کا موقع ملے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ دیگر ملکوں کے ساتھ پاکستان کا تجارتی حجم بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔
جام کمال کا کہنا تھا کہ وزیر تجارت ہونے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی نمائندگی بھی میری ذمہ داری ہے۔
بلوچستان کی مجموعی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر تجارت نے بتایا کہ ’بلوچستان پاکستان کے 44 فیصد حصے پر مشتمل ہے۔ میں یہاں تو صرف وزیر تجارت نہیں بلکہ بلوچستان کی بہتری کی ذمہ داری بھی مجھ پر عائد ہوتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’بلوچستان کے مسائل ایک دن میں حل نہیں ہو سکتے لیکن ہم سب اگر اپنے حصے کا کردار ادا کریں گے تو بہتری ضرور آئے گی۔ ہمیں اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا کن اقدامات کے تحت بلوچستان کے باسیوں کی حالات زندگی بہتر ہو سکتے ہیں۔‘
جام کمال کے مطابق ’دیگر صوبوں کی نسبت بلوچستان کو تجارت کے زیادہ مواقع بھی نہیں مل سکے۔ میری کوشش ہو گی کہ بلوچستان میں موجود تجارتی مواقعوں سے استفادہ حاصل کر کے صوبے اور ملک کے حالات بہتر بنائیں جائیں۔‘
وزیر تجارت نے کہا کہ وفاق کو بلوچستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
بلوچستان وسائل سے مالامال ہے۔ صوبے میں بارڈر ٹریڈ کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں زراعت اور کان کنی کے شعبوں میں بھی کام کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ بلوچستان کی 650 کلو میٹر ساحلی پٹی کو بھی صوبے اور ملک کی بہتری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ سب اقدامات اُسی صورت ہو سکتے ہیں جب وفاق اور صوبے کی باہمی دلچسپی ہو۔‘

جام کمال نے کہا کہ دیگر ملکوں کے ساتھ پاکستان کا تجارتی حجم بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

نو منتخب وزیر تجارت جام کمال نے خلیجی ممالک کے ساتھ تجارت کے مزید فروغ کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا خلیجی ممالک سے آزادانہ تجارت کے معاہدے کو حتمی شکل دے کر ملک کی تجارت کو مزید بڑھایا جائے گا۔ معاہدے میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب کے ساتھ بھی باہمی تجارت بڑھانے کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ان دونوں میں کامیابی سے پاکستان کی خلیجی ممالک کے ساتھ تجارت میں وسعت پیدا ہو گی۔
خلیجی ممالک میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے۔ ہم ان ممالک کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں اور باہمی تجارت کو بڑھانے کے مواقعوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔‘
وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے کہا کہ پاکستان تمام ممالک سے اچھے تعلقات چاہتا ہے تاہم انڈیا سے معمول کے تعلقات اور تجارت کی بحالی دیگر مسئلوں سے جڑی ہے۔
’پاکستان انڈیا کو مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیتا ہے۔ انڈیا پاکستان کے تحفظات پر سنجیدگی سے توجہ دے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ انڈیا کے ساتھ تجارت کی بحالی مسئلہ کشمیر اور پاکستان کے دیگر تحفظات کے سدباب سے مشروط ہے۔‘
وزیر تجارت کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں تمام وفاقی وزیر اپنی اپنی وزارتوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے واضح طور پر کہا ہے کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں ہم نے ملک کو بہتری کی جانب بڑھانا ہے۔‘

شیئر: