ایران کے 27 صوبوں میں احتجاجی مظاہرے: کرائے کے فوجی برداشت نہیں، خامنہ ای

image

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے 27 صوبوں تک احتجاجی مظاہرے پھیل چکے ہیں، جہاں دکانداروں اور شہریوں کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ حالیہ احتجاج کے دوران مظاہرین نے کئی بڑے شہروں میں ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کر دیں۔

تہران میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے تہران میں توڑ پھوڑ کی، متعدد عمارتوں کو نذر آتش کیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق بعض مقامات پر ہتھیاروں سے لیس شرپسندوں نے پولیس پر پتھراؤ اور فائرنگ بھی کی، جس کے بعد صورتحال پر قابو پانے کے لیے ملک بھر میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

ادھر احتجاج کے پیش نظر ایران بھر میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند کردی گئی ہے۔ انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس نے بندش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں بھی ایرانی حکام مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ سروس معطل کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ اگر مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا ایران کو سخت اور بھرپور جواب دے گا۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کرائے کے فوجیوں اور بدامنی پھیلانے والوں کو ہر گز برداشت نہیں کرے گا۔ عوام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایرانی قوم پر زور دیا کہ وہ اتحاد برقرار رکھے اور دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنائے۔

آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ کچھ فسادی عناصر عوامی املاک کو نقصان پہنچا کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنا چاہتے ہیں، تاہم ٹرمپ کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک کے اندرونی مسائل پر توجہ دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے ہاتھ ہزاروں ایرانیوں کے خون سے رنگے ہیں، ایرانیوں کا قاتل مظاہرین کا ہمدرد کیسے ہوسکتا ہے؟ چند کم عقل اور ناتجربہ کار لوگ ٹرمپ کی باتوں میں آجاتے ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے قوم سے خطاب میں کہا کہ امریکی صدر پہلے اپنے ملک میں ہونے والے مظاہروں پر توجہ دیں، تہران اور دیگر شہروں میں جلاؤ گھیراؤ میں شرپسند عناصر ملوث ہیں۔

واضح رہے کہ ایران میں مہنگائی، معاشی بحران اور کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ کے خلاف گزشتہ 28 دسمبر سے ملک گیر مظاہرے جاری ہیں۔ ان مظاہروں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں سمیت اب تک 45 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US