کیسے کہیں کہ دل لگی دل کو ہی لگ گئیکہاں سے منکر وفا کو یہ بیماری لگ گئیوہ جو حسن و جمال کے قائل کبھی نہ تھےوبال حسن کی انہیں بھی اسیری لگ گئی
ہم پلٹ کر کسی کے پاس جایا نہیں کرتےدل کی ہم ہر بات بتایا نہیں کرتےوہ خاص ہے میرے لیے خاص ہی رہے گاہم اسلیے ہر کسی کواپنا بنایا نہیں کرتے
اتنا نا چاہ کسی کو کہاک لمحہ ہی تجھے بے اعتبار نا کر دےوہ تیرا مسکرانا لمحہ بھر کے لیےسدا کا رونا تیرے نام نا کر دےہمیں اپنی دنیا میں جینے دوکہیں یہ دنیا تمہیں برباد نہ کر دےہم مسکرا دیتے ہیں تو غنیمت سمجھوکہیں ہماری کوئی بات اداسیوں کی شام نہ کر دے