جانئے کچن کی وہ جگہیں۔۔۔۔۔۔ جہاں جراثیم گھات لگا کر بیٹھتے ہیں، لیکن آپ کو پتا نہیں چلتا!

ہمارے یہاں اکثر گھرانوں میں کہا جا رہا ہوتا ہے کہ ”باہر سے کھانا کھایا تھا نہ؟ اسی لئے بیمار ہوگئے ہو۔“ کیونکہ یہی سمجھا جاتا ہے کہ ریسٹورنٹس کے کچن صاف نہیں ہوتے اور وہاں موجود جراثیم کی وجہ سے انسان بیمار ہوجاتاہے، یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے۔ لیکن ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ 9 فیصد لوگ گھروں میں کھانا کھانے کے باوجود بیمار ہوجاتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ خاتونِ خانہ کو پتا نہیں ہوتا کہ جراثیم کچن کے کن حصوں یا جگہوں پر موجود ہوسکتے ہیں، وہ آرام سے کھانا تیار کرتی ہیں اور یہی سمجھتی ہیں کہ گھر پر انہوں نے صاف ستھرا کھانا تیار کیا ہے، اس لئے ان میں جراثیم ہونے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق کھانا تیار کرنے کے دوران کچن کے سب سے زیادہ استعمال ہونے والی اشیا جراثیم سے آلودہ ہوتی ہیں، جس کا خاتون خانہ کو اندازہ تک نہیں ہوتا، اسلئے وہ اس کی صفائی کی طرف توجہ بھی نہیں دیتیں۔

کنساس اسٹیٹ یونیورسٹی کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق کے دوران 123 افراد کو دو گروپس میں تقسیم کیاگیا۔ ایک گروپ کو کچن اشیاکو صاف رکھنے کی مکمل معلومات / تعلیم فراہم کی گئی، جبکہ دوسرے گروپ کو یہ معلومات یا تعلیم فراہم نہیں کی گئی۔ پھر ان دونوں گروپس کو گوشت، پولٹری اشیا اور فروٹ سلاد وغیرہ کی تیاری کا کہا گیا۔ اس دوران ریسرچرز نے جراثیم کو جانچنے کیلئے ان چیزوں پر ایک ٹریکر ٹائپ ڈیوائس لگادی۔ ماہرِ امراض سوزین کے مطابق وہ اشیا جو اس ریسرچ کے دوران جن چیزوں پر سب سے زیادہ جراثیم پائے گئے اور ان کی وجہ سے جراثیم کھانے کی چیزوں پر منتقل ہوتے دیکھے گئے، وہ مندرجہ ذیل ہیں۔

کچن تولیہ

کچن میں تولیہ یا اسفنج وغیرہ صفائی کی غرض سے رکھا گیا ہوتا ہے، اس میں سب سے زیادہ جراثیم موجود ہوتے ہیں۔ خاتون خانہ کھانا پکانے سے قبل ہاتھ دھوتی ہیں اور ان کچن میں موجود تولئے سے ہاتھ پونچھ لیتی ہیں، یوں جراثیم دوبارہ ان کے ہاتھوں میں لگ جاتے ہیں۔

اس لئے سوزین کا مشورہ ہے کہ کچن میں تولیہ رکھنے کے بجائے ٹشو پیپر یا پیپر ٹاول (paper towel)رکھیں۔ ریسرچ کے مطابق کچن میں موجود تولئے کو دھوکر بھی رکھاجائے تب بھی رات ہی رات میں اس میں salmonella نامی جراثیم کی افزائش ہوجاتی ہے، جب خواتین تولئے سے ہاتھ صاف کرنے کے بعد کھانے کے لئے کوئی بھی چیز تیار کرتی ہیں تو یہ جراثیم کھانے کی چیزوں کے ساتھ انسان کے جسم میں داخل ہوکر آنتوں میں پہنچ جاتاہے اور پھر کئی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔

لیپ ٹاپ/ سیل فون/ ٹیبلیٹ

آج کل خواتین لیپ ٹاپ، سیل فون یا ٹیبلیٹ سے ریسیپی دیکھ کر کھانے کے تیار کرتی ہیں یا کھانا تیار کرنے کے دوران فون کال پر بات کرتی ہیں، ساتھ ہی وہ جب انہیں ٹچ کرنے کے بعد کھانا پکانے کیلئے موجود اشیا جیسے گوشت وغیرہ کو ہاتھ لگاتی ہیں تو جراثیم اس طرح منتقل ہوجاتے ہیں۔

سوزین کا کہنا ہے کہ یا توسیل فون وغیرہ ٹچ کرنے کے فوراً بعد ہاتھوں کو دھوئیں، یا پھر اپنے سیل فون وغیرہ کلئیر پلاسٹک بیگ میں ڈال کر رکھیں اور اسے بغیر ٹچ کئے استعمال کریں۔ یا پھر کھانا تیار کرنے کے دوران ڈیوائسز کو ہاتھ ہی نہ لگائیں۔

سنک، ریفریجریٹر، اوون ہینڈل اور ڈسٹ بن

ریسرچ کے مطابق 82 فیصد جراثیم کچن کے سنک، ر یفریجریٹر، اوون کے ہینڈل (جس سے اوون کو کھولا اور بند کیا جاتا ہے) اور ڈسٹ بن پر موجود ہوتے ہیں۔ خواتین ان تمام چیزوں کو ہاتھ لگاتی ہیں۔ اوون کو کھولنے، بند کرنے کے بعد انہیں کہاں دھیان رہتا ہوگا کہ اس پر جراثیم بھی ہیں۔ اسی طرح باقی اشیا بھی استعمال کرتی ہیں اور کھانا بھی پکاتی جاتی ہیں۔ یوں پکائے جانے والے کھانے میں جراثیم کی منتقلی کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

چمچ، کانٹے ودیگر اشیا

خواتین گرِل پین، چمچ، کانٹے اور دیگر کچن آئٹمز استعمال کرتی ہیں، ساتھ ہی کچن میں ایک طرف گوشت یا پولٹری آئٹمز بھی رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب ان کے ساتھ ہی کچن کے استعمال کی یہ چیزیں رکھی جائیں تو ان میں جراثیم منتقل ہوجاتے ہیں، پھر اسی چمچ کو استعمال کرتے ہوئے کھانا تیار کیا جائے تو جراثیم کھانے میں ٹرانسفر ہوجاتے ہیں۔

ہاتھ

ریسرچ کے مطابق کھانا پکانے کے دوران جو لوگ ہاتھوں کو مختلف اوقات میں دھوتے نہیں ہیں، ان کی یہ عادت بھی جراثیم کو پھیلانے کی ایک وجہ بنتی ہے، لیکن کوئی اس طرف توجہ نہیں دیتا۔ ڈاکٹر سوزین کا کہناہے کہ سبزیوں، گوشت یا پولٹری اشیا کو ہاتھ لگانے کے بعد فوراً ہاتھ دھوئیں۔ پیپر ٹاول کی مدد سے ہاتھوں کو خشک کریں۔

پھل، سبزیاں

جب سلاد کی بات آتی ہے تو سب سے زیادہ ان میں جراثیم پائے جانے کا خدشہ دوران تحقیق دیکھاگیا ہے۔ ڈاکٹر سوزین کے مطابق تحقیق میں تیار فروٹ سلاد میں سب سے زیادہ جراثیم موجود پائے گئے۔ اگر اسے اچھی طرح دھویا نہیں گیا، یا اس کی تیاری کے دوران خیال نہیں رکھاگیا تو ہوسکتاہے کہ اس میں موجود جراثیم کی وجہ سے انسان کو الٹیاں، موشن، ڈائریا، بے چینی اور طبیعت خرابی کا سامنا کرنا پڑے۔ اسلئے کچن باسکٹ میں موجود تمام پھلوں اور سبزیوں کو اچھی طرح دھویا جائے، تاکہ ان میں موجود جراثیم انسان کو بیمار کرنے کا باعث نہ بن سکیں۔

YOU MAY ALSO LIKE :

Kitchen Me Germs Kahan Kahan Mojood Hoskhte Hein

Kitchen Me Germs Kahan Kahan Mojood Hoskhte Hein - Read the best tips, tricks & totkay of Tips And Tricks. These tips and tricks are specially developed to cater your needs of Tips And Tricks. Now, you do not have to visit multiple websites to be aware about the totkay related to Tips And Tricks. So, just read the informative content on Kitchen Me Germs Kahan Kahan Mojood Hoskhte Hein. These tips and tricks will surely play a great role in enhancing your beauty.