یونیورسٹی کا آخری سال، ملالہ نے مشورے مانگ لیے  

ملالہ یوسفزئی دنیا کی سب سے کم عمرنوبل انعام یافتہ ہیں ،ان کی ذہانت اوراعتماد اپنی جگہ لیکن پڑھائی اچھے اچھوں کے چھکے چھڑا دیتی ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ملالہ نے سینئرائر سے نمٹنے کیلئے مدد طلب کرلی۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرملالہ نے اپنے 15 لاکھ فالوررز کیلئے ٹویٹ میں یونیورسٹی کے آخری سال کیلئے چھٹیوں کے بعد واپسی کا بتاتے ہوئے لکھا کہ میں جانتی ہوں یہ مشکل ترین ہوگا۔ ملالہ نے آسکنگ فارآفرینڈ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ یونیورسٹی کے آخری سال کے مسائل سے نمٹنے کیلئے تجاویز بھی مانگ لیں۔
جواب میں 20 ہزارلائکس کے ساتھ ساتھ ملالہ کو 2 ہزار سے زائد مشورے بھی موصول ہوئے کہ انہیں کیا کرنا چاہیے، جوابات دینے والے بھی کم وبیش انہی مسائل کا شکارنکلے۔
کسی نے مشورہ دیا کہ عملی کام کا آغازپہلے کرلیں جس کے جواب میں ملالہ نے بھی اسی خواہش کا اظہارکیا ایک صارف نے تو آسان حل بتاتے ہوئے کتابوں سے دوررہ کر دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کا مشورہ دیا جو بقول ملالہ کے وہ پہلے ہی کر رہی ہیں لالہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں فلسفہ، سیاست، اور معاشیات کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ یہی مضامین آکسفورڈ سے پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اورچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے بھی پڑھے تھے۔
یاد رہے کہ ملالہ یوسفزئی کو اس وقت عالمی پہچان ملی جب 2012 میں سوات میں اسکول سے واپس آتے ہوئے ملالہ پر فائرنگ کی گئی تھی۔ ملالہ کو لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھانے پر نشانہ بنایا گیا تھا۔ بعد میں ملالہ کو بہترعلاج معالجے کیلئے برطانیہ منتقل کردیا گیا تھا۔
ملالہ 2014 میں بچوں کی تعلیم کے لیے مہم چلانے پربھارت کے سماجی کارکن کیلاش ستھیارتھی کے ساتھ مشترکہ طور پر نوبیل امن انعام بھی حاصل کرچکی ہیں۔اس کے علاوہ انہیں ورلڈ چلڈرن پرائز ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے ملالہ کو اپنا سفیر برائے امن بھی مقرر کیا ہے۔خواتین کی تعلیم، حقوق نسواں اور انسانی حقوق کیلئے خدمات پرکئی عالمی اعزازات بھی اپنے نام کرچکی ہیں۔
News Source : SAMAA NEWS

YOU MAY ALSO LIKE :