سعودی عرب میں پہلی بار خواتین نوٹری مقرر کی جائیں گی  

 

ریاض : سعودی عرب کی وزارت ِانصاف خواتین کو عدالتی خدمات میں سہولتیں مہیا کرنے کی غرض سے ان کا الگ سے محکمہ نوٹری شروع کرنے پر غور کررہی ہے، مختلف شہروں میں قائم کیے جانے والے اس محکمے کے دفاتر میں خواتین ہی کو نوٹری مقرر کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق سعودی وزیر انصاف اور سپریم جوڈیشیل کونسل کے چئیر مین ڈاکٹر ولید بن محمد الصمعانی نے اپنی وزارت کو ملک کے مختلف شہروں میں خواتین کے شعبہ نوٹری کے آغاز کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔
وزارتِ انصاف نے پہلے ہی خواتین کو بہ طور قانونی مشیر ، محققین اور قانون ساز بھرتی کرنے کا عمل شروع کررکھا ہے،اس کا مقصد وزارت کے نئے تنظیمی ڈھانچے کے تحت خواتین کی اپنی انتظامیہ کی تشکیل عمل میں لانا ہے۔
وزارت کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ کچھ عرصے کے دوران میں 70 خواتین کو نوٹری کے طور پر تصدیقی کام کے لیے لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال خواتین کو 155 قانونی لائسنس جاری کیے گئے تھے ۔ان کے علاوہ وزارت انصاف کے تحت قانونی ، تکنیکی اور سماجی شعبوں میں 240 سعودی خواتین کو بھرتی کیا گیا تھا۔
عرب میڈیا کے مطابق سعودی خواتین کو 2018ءمیں وزارت انصاف میں پرائیویٹ نوٹری کے طور پر لائسنسوں کے اجرا کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔وہ اب ایک مربوط ڈیجیٹل نظام کے تحت ہفتے میں سات دن صبح اور شام کے اوقات میں اپنی نجی دفاتر میں کام کررہی ہیں۔
وزارت ِ انصاف کے مطابق نجی شعبے میں کام کرنے والے مرد وخواتین نوٹری وکالت نامے کے اختیار کو جاری اور منسوخ کرسکتے ہیں اور کارپوریٹ دستاویزات کی تصدیق کرسکتے ہیں۔ سعودی عرب میں اس وقت کام کرنے والے لائسنس یافتہ پرائیوٹ نوٹریوں کی تعداد تیرہ ہزار سے زیادہ ہے، ان کی تصدیق شدہ دستاویزات کو تمام سرکاری محکموں اور عدلیہ کے ماتحت اداروں میں تسلیم کیا جاتا ہے۔
وزارتِ انصاف کا کہناتھا کہ وہ نوٹری کے لائسنسوں کے اجرا کا سلسلہ جاری رکھے گی جبکہ ان کی جانب سے فراہم کردہ خدمات کے معیار پر بھی کڑی نظر رکھے گی، سعودی عرب میں پہلے مردوں کے لیے پبلک نوٹری خدمات کا اجرا کیا گیا تھا اور ان کا فروری 2017 سے آغاز ہوا تھا۔
وزارت کے مطابق ”نوٹری خدمات کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا اقدام وزارتِ انصاف کے این ٹی پی 2020ءکا حصہ ہے، اس کا مقصد افراد اور کمپنیوں کے لیے نوٹری کی کارکردگی کو موثر بنانا ہے۔اس سے عدالتی خدمات کو نجی شعبے کے حوالے کرنے میں مدد ملے گی اور سعودی ویڑن 2030ءکے مطابق قومی معیشت کو ترقی ملے گی۔
NEWS SOURCE : ARY NEWS

YOU MAY ALSO LIKE :