می ٹو تحریک کے دو سال، مرد خواتین سے کترانے کیوں لگے؟  

دو سال قبل اسی ماہ ہالی وڈ کے پروڈیوسر ہاروی وائن اسٹائن کے خلاف الزامات منظر عام پر آنے کے بعد خواتین کی جانب سے شروع ہونے والی می ٹو نامی ایک تحریک کے نتیجے میں، جب بہت سے لوگوں نے جنسی حملوں اور جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے متعلق اپنی کہانیاں آن لائن بیان کیں تو بہت سے مردوں کو ایسے الزامات کی وجہ سے اپنی ملازمتوں سے محروم ہونا پڑا۔
جائزوں سے ظاہر ہوا ہے کہ اس کے بعد سے ایسے مرد منیجروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو خواتین کے ساتھ قریبی طور پر کام کرتے ہوئے پریشانی محسوس کرتے ہیں۔
می ٹو تحریک کے سلسلے میں 2018 میں کیے گئے ایک سروے میں شامل مردوں میں سے 41 فیصد نے کہا کہ وہ اب کسی بھی ایسی براہ راست میٹنگ سے ہچکچاتے ہیں جہاں وہ کسی ایک خاتون کے ساتھ تنہا ہوں۔
ہر پانچ مردوں میں سے کم ازکم ایک نے کہا کہ اب ان میں یہ رجحان بڑھ گیا ہے کہ وہ کام کے بعد میل ملاپ کی تقاریب میں خواتین کو شامل نہ کریں۔ نیویارک سٹی کی ایک کنسلٹنٹ ڈیویا تیمن کہتی ہیں کہ جائزے کے یہ نتائج ان کے لیے حیران کن نہیں ہیں۔
وہ کرائسس مینیجمنٹ کی ایک کمپنی چلاتی ہیں، اور ان کے پاس نامور شخصیات کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کیے جانے اور اس قسم کی زیادتیوں کے الزامات سے متعلق اعداد و شمار موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ می ٹو کا ایک رد عمل سامنے آیا ہے اور میرا نہیں خیال کہ یہ کوئی سنجیدہ معاملہ ہے اور یہ برقرار رہے گا۔ میرا خیال ہے کہ می ٹو ہمیشہ سے یہاں موجود تھی۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ ایک پریشان کن صورت حال ہے اور تبدیلی ہمیشہ ہی پریشان کن ہوتی ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی کی قانون کے پروفیسر الاٹی جانسن، می ٹو کو تبدیلی کی ایک زبردست طاقت سمجھتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ یہ ایک انتہائی مضبوط تحریک ہے جس نے واقعتاً جنسی طور پر ہراساں کیے جانے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات پر توجہ مرکوز کرائی ہے، اور اس نے خواتین کو اپنی کہانیاں اجتماعی طور پر بیان کرنے کا ایک طریقہ فراہم کیا ہے۔ بہت زیادہ بار لوگ الگ سے بیان کی جانے والے واقعات پر یقین نہیں کرتے لیکن جب آپ بار بار ایسے واقعات کو سنتے ہیں تو آپ یہ سوچنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ ٹھوس مسائل ہیں جن پر ہمیں توجہ دینی چاہیے۔
نیشنل ویمن لاء سینٹر کے مطابق اکتوبر 2017 سے جب سے می ٹو تحریک منظر عام پر آئی ہے، پندرہ امریکی ریاستوں نے ملازمین کو جنسی ہراساں کیے جانے اور جنس کی بنیاد پر امتیاز سے بچانے کے لیے نئے قوانین منظور کیے ہیں۔
جانسن اور تمین دونوں نے حال ہی میں کولمبیا یونیورسٹی میں ایک پینل ڈسکشن میں شرکت کی۔ ان کے ساتھ شیلی اوریا بھی شامل تھیں جو می ٹو جیسے واقعات پر ایک کتاب مرتب کر چکی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ انٹرنیٹ بہت طاقتور ذریعہ ہے ۔یہ ہمیں کچھ کرنے کے لیے تیار کرتا ہے اور پھر وہ سب کچھ حقیقی زندگی میں عمل پذیر ہو جاتا ہے۔ تبدیلیاں حقیقی زندگی میں آنی چاہییں۔ قوانین میں، کام کی جگہوں میں، خواتین کی تنخواہوں میں اور سڑکوں پر خواتین کے تجربات میں تبدیلی لانے کے لیے ضروری ہے کہ تبدیلی حقیقی دنیا میں آئے۔ تو میرا خیال ہے کہ تبدیلی لانے میں لٹریچر کا ایک کردار ہو سکتا ہے کیوں کہ کتاب حقیقی دنیا میں موجود ہوتی ہے۔
ریٹائرڈ اٹارنی رابرٹ کویمٹی کہتے ہیں کہ می ٹو نے انہیں اس بارے میں شعور دیا ہے کہ کچھ خواتین کیوں اپنے کیرئیر کو زیادہ عرصے تک قائم نہیں رکھ سکی تھیں۔
ان کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ یہ اچھا ہے کہ لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ کس کے ساتھ تنہا ہیں اور کن حالات میں۔
اگرچہ ابھی یہ اندازہ لگانا بہت قبل از وقت ہے کہ می ٹو کا طویل المیعاد اثر کیا ہو گا، تمین کہتی ہیں کہ یہ تحریک ایک پینڈورا باکس کھولنے کے مترادف ہے اور اس کا کوئی اختتام نہیں ہے۔
News Source : VOA URDU

YOU MAY ALSO LIKE :