میں کائنات کے بھیدوں کو جان پانے کو
Poet: وشمہ خان وشمہ
By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

حقیقتوں کی حقیقت کو آزمانے کو
میں کائنات کے بھیدوں کو جان پانے کو

طلسم ہوشربا ہی ہے کائنات و حیات
معاملہ تو کبھی بھی سمجھ میں آنے کو

ہر ایک راز میں پوشیدہ راز ہیں کتنے
کسی نے رازوں سے پردہ کبھی اٹھانے کو

مگر مجھے ہے ودیعت ہی ایسی کچھ فطرت
کہ عام سطح پہ خود کو کبھی یہ لانے کو

مصوری بھی ہے کیا اس بڑے مصور کی
ہے چیز کون سی جس میں نظر وہ آنے کو

ہاں ان خیالوں میں اک تیرا بھی خیال رہا
تجھے اے دوست کبھی دل سے نہ بھلانے کو

کبھی بھی پا نہ سکو گے خدا کو تم وشمہ
نبیؑﷺ کے نام پہ جاں کو اگر لٹانے کو

Rate it: Views: 2 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 03 Jun, 2018
About the Author: washma khan washma

I am honest loyal.. View More

Visit 4332 Other Poetries by washma khan washma »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.