اسے شاید نہیں رغبت مرے اجڑے مقدر کی
Poet: وشمہ خان وشمہ
By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

اسے شاید نہیں رغبت مرے اجڑے مقدر کی
خبر رکھتا ہے دنیا میں ہمیشہ سے جو گھر گھر کی

انا بھی ہے خودی بھی ہے مری اپنی طبعیت میں
جدائی مار دیتی ہے مجھے اپنے ہی رہبر کی

میں لوگوں کے لیے اب عامیانہ شعر کہتی ہوں
میں اب امید رکھتی ہی نہیں ہوں آپ سے شر کی

نئی کچھ بات کہنے کے لیے بے چین رہتی ہوں
مرے فن کو ملی ہے اب تو گہرائی سمندر کی

گریباں چاک ہے سب کا مگر کس کو خبر ہے یہ
کہ باتیں کر رہا ہے ہر کوئی میدانِ محشر کی

غریبوں سے تو ان کی مفلسی نے زندگی چھینی
‛‛کہ طاقت اڑ گئی ‛اڑنے سے پہلے میرے شہپر کی‛‛

نجانے کتنے موسم زندگی میں تیرے بعد آئے
میں کیوں یہ ٹھوکریں کھاؤں زمانے تیرے در در کی

Rate it: Views: 22 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 10 Feb, 2018
About the Author: washma khan washma

I am honest loyal.. View More

Visit 4286 Other Poetries by washma khan washma »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.