آس ہو گی نہ آسرا ہو گا
Poet: ابنِ منیب
By: ابنِ مُنیب, سویڈن

آس ہو گی نہ آسرا ہو گا
آپ ہوں گے نہ آپ سا ہو گا

خون بہنے لگا ہے نہروں میں
شیخ جنت میں آ بسا ہو گا

اپنے کردار پر نظر رکھنا
وقت اچھا، کبھی بُرا ہو گا

قتلِ ناحق سے کر دیا انکار
"سرفروشوں" میں سر پِھرا ہو گا *

اک ضرورت خدا کی ہے ہم کو
تُو نہ ہو گا تو دوسرا ہو گا

- اِبنِ مُنیبؔ

* شاید فدائی حملوں کے لئے برین واش کر کے بھیجے جانے والوں میں ایسے بھی ہوتے ہوں جو اپنے ارد گرد معصوموں کو دیکھ کر دھماکہ کرنے سے انکار کر دیتے ہوں۔

Rate it: Views: 43 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 23 Dec, 2017
About the Author: Ibnay Muneeb

https://www.facebook.com/Ibnay.Muneeb.. View More

Visit 127 Other Poetries by Ibnay Muneeb »
 Reviews & Comments
outstanding
stay bless
By: uzma, Lahore on Dec, 26 2017
Reply Reply to this Comment
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.