ضبط کتنا ہی آزمایا ہو گا!!!!
Poet: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی
By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی, فیصل آباد, پنجاب, پاکستان

 ضبط کتنا ہی آزمایا ہو گا
اک اشک جو آنکھ میں آیا ہو گا

یہ کیا کہ رونے پہ بھی پابندی
گویا ضبط کو سولی پہ چڑھایا ہو گا

تلخئ دوراں کی نظر کٹی عمر ء انساں
مر کے خوب جشن تو منایا ہو گا

وہ جو مسکراتا ہے بات بے بات بھی اتنا
خود کو کئ بار بہلایا ہو گا

سنا ہے آج کل اداس ہے وہ بھی
کسی نے حال میرا شاید سنایا ہو گا

اسے عادت تھی میرا نام لکھنے کی
کتنی بار اس نے مجھے مٹایا ہو گا

لکھا ہو گا اس نے تعارف میں مجھے
اک دیوانہ کوئی مجنوں بتایا ہو گا

وہ جو سر ء شام بھی میرے ساتھ ہے رہتا
مجھ سا دیوانہ میرا سایہ ہو گا

اسے معلوم ہی نہیں حقیقت میری عنبر
میری مسکان سے وہ دھوکا کھایا ہو گا

Rate it: Views: 40 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 22 Oct, 2017
About the Author: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی

Visit 723 Other Poetries by سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
Nice piece of poetry amber g
By: Mrs naveed, Fsd on Nov, 05 2017
Reply Reply to this Comment
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.