فریاد
Poet:
By: wasim ahmad moghal, lahore

روہنگیا کے مسلمانوں کی فریاد
وہ کون ہے کے جس کی یہاں آنکھ نم نہیں
وہ کون ہے کہ جس کو یہاں کوئی غم نہیں
وہ کون ہے کہ جو یہاں زیرِ ستم نہیں
ہم ایک دن بھی کب یہاں آرام سے رہے
اور شب کو سو سکے نہ کسی آسماں تلے
وہ کون سا ہے تیر جو ہم پہ چلا نہیں
وہ کون سا ہے زخم جو ہم پہ لگا نہیں
وہ کون سا ہے ظلم جو ہم پہ ہوا نہیں
دنیا تو ساری چپ ہے کوئی بولتا نہیں
اے رب ہمارے تُو بھی کیا دیکھتا نہیں
کس جرم کی ملی ہے سزا کچھ خبر نہیں
کیوں دے رہے ہیں آگ لگا کچھ خبر نہیں
کس واسطے یہ خون بہا کچھ خبر نہیں
بہتا ہی جا رہا ہے کسی سے رکا نہیں
یہ کس کا خون ہے جو ابھی تک جما نہیں
ٹینکوں کی گھن گرج میں یہ اُٹھتا غبار دیکھ
ہر گھر کا ٹُوٹتا ہوا تُو ہر حصار دیکھ
کیسے اُجڑ گئے یہاں ہنستے دیار دیکھ
کتنی ہی بستیاں یہاں تاراج ہو گئیں
کچھ تو ہوئیں تھی کل یہاں کچھ آج ہو گئیں
جو دن کی روشنی میں لٹے کاروبار دیکھ
جو شب کی تیرگی میں ہوئے ہم پہ وار دیکھ
اِنسان ہوگئے ہیں یہاں خونخوار دیکھ
شعلوں کی زد میں آ گیا ہر ایک کا مکاں
ہر گھر سے اُٹھ رہا ہے سُلگتا ہوا دھواں
یہ لڑکیاں برہنہ کھڑی ہیں ذرا یہ دیکھ
ان کے قریب لاشیں پڑی ہیں ذرا یہ دیکھ
یہ آزمائشیں تو کڑی ہیں ذرا یہ دیکھ
یہ زندگی تو اپنے لئے ننگ ہو گئی
تیری زمیں ہمارے لئے تنگ ہو گئی
گھر گھر سےآہ و زاری و چیخ و پکار سن
کیا ہو رہا ہے مالکِ لیل و نہار سن
پروردگار سن مرے پروردگار سن
ہم لوگ کٹنے پھر سرِ بازار آگئے
زنجیروں میں بندھے ہوئے تیار آگئے
ہر صبح اپنے گاؤں میں ڈاکہ زنی ہوئی
ہر شام اپنے شہر میں غارت گری ہوئی
ہر وقت میری بہنوں کی عصمت دری ہوئی
ہر روز قتلِ عام کی تازہ نوید ہے
جو بچ رہے گا اُس کے لئے بھی وعید ہے
کچھ لوگ جا کے دشت میں آباد ہو گئے
کچھ ملک چھوڑ کے کہیں برباد ہوگئے
اکثر تو قیدِ زیست سے آزاد ہو گئے
سرکار کی طرف سے ہمیں گولیاں ملیں
یا لاشیں جن میں بند تھیں وہ بوریاں ملیں
وہ کون تھے جو زندہ ہی دفنا دیئے گئے
وہ کون تھے جو پانی میں پھِکوا دیئے گئے
جو بچ رہے وہ سولی پہ لٹکا دئے گئے
محشر سے پہلے حشر بپا ہو گیا ہے دیکھ
یہ سامنے ترے ہی کیا ہو گیا ہے دیکھ
تُو اپنے بندے آگ میں جلتے ہوئے بھی دیکھ
اور آرے اِن کے جسم پہ چلتے ہوئے بھی دیکھ
اور اِن کے جسم چاقو سے کٹتے ہوئے بھی دیکھ
عرشِ عظیم تیرا ابھی تک ہلا نہیں
کیوں آسمان اُن پہ ابھی تک گرا نہیں
ہم زندگی کی بھیک جو مانگیں تو کس لئے
کیوں ہم کو مارتے ہو یہ پوچھیں تو کس لئے
ہم زندہ رہنے کے لئے سوچیں تو کس لئے
اب زندہ رہنے کی ہمیں کچھ آس بھی نہیں
اور زندہ رہنے کے لئے کچھ پاس بھی نہیں
ہم لوگ اب تو مائلِ فریاد بھی نہیں
اپنی طرح سے یاں کوئی برباد بھی نہیں
اور ہم کو چاہئے کوئی امداد بھی نہیں
اب ہوگئی ہے ظلم کی جو انتہا نہ پوچھ
میرے خدا نہ پوچھ اے میرے خدا نہ پوچھ
یارب وہ وعدہ تیری قیامت کا کیا ہوا
یا رب وہ وعدہ تیری عدالت کا کیا ہوا
وہ وعدہ مصطفٰی کی شفاعت کا کیا ہوا
تُو دیکھ اور سب کو دکھا دے کہ تُو بھی ہے
اے رب ہمارے سب کو بتا دے کہ تُو بھی ہے

Rate it: Views: 16 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 19 Oct, 2017
About the Author: wasim ahmad moghal

Visit 141 Other Poetries by wasim ahmad moghal »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
Ma sha Allah
Bohet he pur asser: faryad:
Umddah kavish
Stay blessed
By: Rizwana waqar , Oshawa ontario on Nov, 08 2017
Reply Reply to this Comment
محترمہ رضوانہ وقار صاحبہ
فریاد پر آپ کے پُروقار اور شاندار تبصرے پر میں آپ کا تہہ ِ دل سے شکریہ آدا کرتا ہوں،
آپ اگر اسی طرح حوصلہ افزائی کرتی رہیں گی جو آپ پہلے ہی سے کر رہی ہیں تو امید ہے اس سے اچھا لکھنے کی کوشش جاری رہے گی،
آپ کی دعاؤن کا طالب
دعا گو
وسیم
By: wasim ahmad moghal, lahore on Nov, 12 2017
JAZAK ALLAH,,,NICE THOUGHTS,,,BY POET
By: IMRAN JK, lahore on Oct, 23 2017
Reply Reply to this Comment
محترم عمران صاحب
میری نظم پر جو آپ نے تبصرہ فرمایا ہے میں اس پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور ایک بار بھی شکریہ بنتا ہے کہ آپ نےدو بار توجہ فرمائی
شاعر کا سہواً رہ گیا تھا تو عرض یہ ہے کہ یہ نظم میری ہی کوشش کا نتیجہ ہے۔
آپ کا مخلص
وسیم
By: wasim ahmad moghal, lahore on Oct, 29 2017
LOVELY FEELINGS,,,SO NICE
By: IMRAN JK, lahore on Oct, 23 2017
Reply Reply to this Comment
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.