شکوہ و التجاء
Poet: SAGAR HAIDER ABBASI
By: sagar haider abbasi, Karachi

یہ تیرے میرے بھیچ کا معاملہ ہے اے خدا
میں کہتا ہوں تو سن میں سنتا ہوں تو بتا
کہیں بھی میری بات پر بجا نہیں شکوہ
اسی لیے میں نے ساتھ کی ہے التجاء
نااعوذباللہ مجھے نہیں کوئی شکوہِ تکلیف
اگر چہ امتِ محمد کے غم میں ہوں مبتلا
ہم پر یہ تہمت ہے ہم مسلمان نہیں رہے
دل گمراہ ہیں اس قدر کے ایمان نہیں رہے
سینے میں دلوں کے قرآن نہیں رہے
ہوں غمزدہ ہمارے پُرسانِ حال نہیں رہے
غربت کو پھرتے دیکھتا ہے میرے دیس میں ننگے پاوں
جلتی دھوپ اور تپتے صحرا ہیں مگر صائبان نہیں رہے
اُٹھتی ہیں بہت سی بے بس ہتھیلیاں تیری جانب مگر
بدل جاہیں گی تقدیریں لوگوں میں یہ امکان نہیں رہے
اُجڑے ہوئے چمن میں انتظارِ بہار کب تک
کیا بے فیض نہ ہوں گی بارشیں اگر گلستان نہ رہے
ہوں آزمائشیں لاکھ مگر میسر کوئی راہ بھی تو ہو
ممکن ہے بھٹکتے بھٹکتے انسان انسان نہ رہے
ہوں امتحان لاکھ مگر حوصلے بھی تو عطا کر
میں اب یہ بھی نہیں کہتا کے کوئی امتحان نہ رہے
تیرا ہی سہارا ہے کیوں تو مہربان نہیں ہوتا ؟
تیری رحمتوں کا جب کہ کوئی شمار نہیں ہوتا
ہے رازق تو پھر بھی ہیں رزق کی بھیک میں دربدر
تو کیوں ایسے لوگوں کا دلدار نہیں ہو تا
ایسا بھی نہیں کہ تجھ سے فریاد نہیں ہم کرتے
غموں کا پہاڑ پھر بھی سر سے کیوں پار نہیں ہوتا
دل میں دھڑکن گر باقی ہے تو تیرا نام بھی تو ہے
مومن ہے تیرا بندہ گر تو گنہگار بھی تو ہے
تیرے ہاتھوں میں ہیں ہدایات و کرامات کے کرشمے
انسان ہمیشہ سے تیری ہدایت کا طلبگار ہی تو ہے
تو اگر چاہے تو زمانے میں بے ایمانی نہ رہے
مل جائے گر تیری ہدایت تو کوئی لفظ بے معنی نہ رہے
تو کر دے گر دلوں کو اپنی ہدایت سے منور
تو کوئی بھی دل ایمان سے خالی نہ رہے
تو مہربان گر ہو جائے تو راستے بدل سکتے ہیں
تو خفا ہی رہے اگر تو ہم کیا کر سکتے ہیں
نہیں میں اقبال جو شکوہ سرِ بازار لاتا
مگر حالات سے مجبور ہوں اب رہا نہیں جاتا
میرا بھی غم اقبال کے غم سے جُدا تو نہیں ہے
اس کا بھی رب تو ہی تھا میرا بھی رب تو ہی ہے
دلِ نادم سے نکلتی ہوئی ندا کو سن لے
اُمتِ محمد کے غموں کی داستاں کو سن لے
لب خاموش ہیں تو گھٹتی ہوئی آہ کو سن لے
درد کے ماروں کہ ضبط کی صدا کو سن لے
تیرے کرم کے سوا یارب ہم کچھ بھی نہیں
گرے ہیں تیرے در پر آ کر یا خُدا سن لے
ایک ایک کر کہ گر تیرے وفادار نہ رہے
جنت کا وعدہ کس لیے جب دلدار نہ رہے
غم انگیز ہے افسانہ غمخوار نہ رہے
جہاں میں کہیں ہمارے غمگُسار نہ رہے
اب بھی تیرے نام پہ قربان ہونے کو تیار ہیں بہت
مٹ جاہیں ایک پل میں ایسے وفادار ہیں بہت
مساجد بنانے کی توفیق تو دے دی تو نے ہمیں
ہداہیتیں بھی فرما دے کہ نمازی بھی مل جاہیں
اے رب برسا اپنی رحمتیں اُجڑے گلستانوں پر
اور کتنے عذاب اُتارے گا بیچارے مسلمانوں پر
یا رب گنہگاروں کو صیح راستہ دکھلا دے
تجھ سے ہی ہے امیدِ کرم تھوڑا کرم فرمادے
منافق ہیں گر تو مٹا دے ان کی ہستی کو
ہیں گر قابلِ معافی تو نہ دے اتنی سزا ان کو
تیری نظرِ کرم گر اب بھی نہ ہم پر آئی
بڑھتی ہی چلی جائے گی پھر جہاں میں رسوائی
مسلمانوں پر امتحان کے بوجھ کو کم کر دے
غمزدوں کی جھولیاں خوشیوں سے بھر دے
پھر نہ یہ تہمت لگے ہم پر ہم مسلمان نہیٰں رہے
نہ دل ہونے دے گمراہ کے ایمان نہیں رہے
دلوں میں نُور بھر دے کوئی پشیمان نہیں رہے
رحمتیں اب تو برسا دے کہ ہم قابلِ امتحان نہیں رہے

Rate it: Views: 10 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 17 Apr, 2017
About the Author: sagar haider abbasi

Sagar haider Abbasi
.. View More

Visit 210 Other Poetries by sagar haider abbasi »
 Reviews & Comments
beautifull good poetry
By: saima naz, KARACHI on Apr, 20 2017
Reply Reply to this Comment
very nice and impressive
By: Kiran Sheikh, karachi on Apr, 20 2017
Reply Reply to this Comment
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.