خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہوا
Poet: Pirzada Qasim
By: Kabir, khi

خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہوا
پھر مجھے دے دیا گیا ایک دیا بجھا ہوا

اپنے تو عہد شوق کے مرحلے سب عزیز تھے
ہم کو وصال سا لگا ایک دیا بجھا ہوا

ایک ہی داستان شب ایک ہی سلسلہ تو ہے
ایک دیا جلا ہوا ایک دیا بجھا ہوا

شعلہ ہوا نژاد تھا پھر بھی ہوا کے ہاتھ نے
بس یہی فیصلہ لکھا ایک دیا بجھا ہوا

محفل رنگ و نور کی پھر مجھے یاد آ گئی
پھر مجھے یاد آ گیا ایک دیا بجھا ہوا

مجھ کو نشاط سے فزوں رسم وفا عزیز ہے
میرا رفیق شب رہا ایک دیا بجھا ہوا

درد کی کائنات میں مجھ سے بھی روشنی رہی
ویسے میری بساط کیا ایک دیا بجھا ہوا

سب مری روشنئ جاں حرف سخن میں ڈھل گئی
اور میں جیسے رہ گیا ایک دیا بجھا ہوا

 

Rate it: Views: 14 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 14 Mar, 2017
About the Author: Owais Mirza

Visit Other Poetries by Owais Mirza »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.