بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا
Poet: Parveen Shakir
By: ali, khi

بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا
میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا

یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اس سے مگر
جاتے جاتے اس کا وہ مڑ کر دوبارہ دیکھنا

کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند
اے شب ہجراں ذرا اپنا ستارہ دیکھنا

کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پسپا ہوئے
ان ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا

جب بنام دل گواہی سر کی مانگی جائے گی
خون میں ڈوبا ہوا پرچم ہمارا دیکھنا

جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے
ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا

آئنے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لیے
جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمہارا دیکھنا

ایک مشت خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے
زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا

Rate it: Views: 178 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 03 Jan, 2017
About the Author: owais mirza

Visit Other Poetries by owais mirza »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
Parveen shakeel is a big poet of the Pakistan and here many poetries peoples really like that because she writes that by heart
By: saima, Multan on Feb, 06 2017
Reply Reply to this Comment
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.