"اعجاز مسیحائی "
Poet: مونا شہزاد
By: Mona Shehzad, Calgary

ذکر ہو اس مہربان کا
تو
آجاتی ہے کچھ ایسی حلاوت لہجے میں
سکھیاں میری تعجب سے پوچھتی ہیں
سنو! یہ سارے زمانے کا شہد کیسے تمہاری زبان میں سمو جاتا ہے؟
یہ سارا اس پرغصہ کیسے اتر جاتا ہے؟
میں مسکرا کر اکثر یہ کہتی ہوں
اری پگلیوں! کبھی پهول کی لڑائی بهنورے سے ہوئی ہے؟
کیا کبھی چاند کو چکور سے خفا دیکھا ہے؟
کیا کبھی تالاب کے بغیر کنول کو کھلتے دیکھا ہے؟
وه حیرانگی سے مجھے دیکھ کر کہتی ہیں
ہمیں تو تم جوگن لگتی ہو،پریت کے تار بنتی ہو
نت نئے خواب سجاتی ہو
اپنے ہاتھ اس آگ سے جلاتی ہو
پهر بھی باز نہ آتی ہو
میں ہنس دیتی ہوں
آنکھیں بند کر کے سوچتی ہوں
پریت میں تھی اس کی کچھ ایسی اگن
گزر گئی مدت مجھے کندن بنے ہوئے

Rate it: Views: 3 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 15 Apr, 2018
About the Author: Mona Shehzad

I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More

Visit 45 Other Poetries by Mona Shehzad »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.