عقل حیران ہے کیا کیا یہ تقاضا ہوگا
Poet: وشمہ خان وشمہ
By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

عقل حیران ہے کیا کیا یہ تقاضا ہوگا
دل کو تقصیر کی ترغیب تماشا ہوگا

انہیں جب غور سے دیکھا تو نہ دیکھا ان کو
مقصد اس پردے کا اک دیدۂ بینا ہوگا

ہم شہادت کا جنوں سر میں لیے پھرتے ہیں
ہم مجاہد ہیں ہمیں موت کا کھٹکا ہوگا

میرا منشا ہے کہ دنیا سے کنارا کر لوں
اے غم دوست بتا تیرا ارادہ ہوگا

بات پر پیچ ہنسی لب پہ شکن ماتھے پر
دل سمجھنے سے ہے قاصر یہ معمہ ہوگا

جو تری زلف پہ جا کر نہ کھلے پھول وہ کیا
جو نہ الجھے ترے دامن سے وہ کانٹا ہوگا

ایک کھلتا ہوا گلشن ہے تمہارا پیکر
تم تبسم ہی تبسم ہو تمہارا ہوگا

وہ فقیروں کو نوازیں نہ نوازیں وشمہ
ہم دعا دے کے چلے آئیں گے اپنا ہوگا

Rate it: Views: 4 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 14 Mar, 2018
About the Author: washma khan washma

I am honest loyal.. View More

Visit 4338 Other Poetries by washma khan washma »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.