خول چڑھائے ہُوئے آ جاتے ہیں
Poet: مرید باقر انصاری
By: مرید باقر انصاری, Karachi

خول چہروں پہ چڑھائے ہوئے آ جاتے ہیں
لوگ کرتُوت چُھپائے ہوئے آ جاتے ہیں

گھر سے نکلے کوئی عورت تو ہوس کے پیکر
ہر طرف گھات لگائے ہوئے آ جاتے ہیں

جب بھی یاروں کی عنایات کا چرچا ہو تو ہم
زخم سینوں پہ سجائے ہوئے آ جاتے ہیں

کام کرنے پہ انہیں موت نظر آتی ہے کیا ?
وہ جو کشکول اٹھائے ہوئے آ جاتے ہیں

میری محفل میں مرے نعرے لگاتے ہوئے لوگ
نفرتیں دل میں چُھپائے ہوئے آ جاتے ہیں

میں زمانے کا ستایا ہوں مرے در پہ یونہیں
سب زمانے کے ستائے ہوئے آ جاتے ہیں

روز باقرؔ میرے مرقد پہ مرے ہی قاتل
شکل معصُوم بنائے ہوئے آ جاتے ہیں
 

Rate it: Views: 7 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 10 Mar, 2018
About the Author: مرید باقر انصاری

Visit 213 Other Poetries by مرید باقر انصاری »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.