"قصور کی معصوم بیٹیوں کے نام"
Poet: ام بلال ریاض
By: ام بلال, ریاض

جب معاشرے میں برائیاں عام ہوتی ہیں
تو بیٹیاں اسی طرح رسوا سرِ عام ہوتی ہیں

بنت حوا کی زندگیاں بے بسی کے نام ہوتی ہیں
اسی طرح انکی زندگی کی شام ہوتی ہیں

ان خون آشام بھیڑیوں سے ھم انہیں کیسے بچائیں گے
جب ہمارے محافظ انکے ہاتھوں بک جائیں گے

کیوں کسی نے ان معصوموں کی چیخیں سنی نہ آہیں
یہ تو ایسا ظلم ہے کہ پہاڑ بھی حل جائیں

کتنا شور کرو گے پھر تم چپ ہوجاؤ گے
دبا کے ان معصوموں کو مٹی میں تم پھر سوجاؤ گے

ظلم درندوں کا ھے تو تمھارا بھی قصور ھے
خود اپنے ہاتھوں سے کیا تم نے انکو دور ھے

کیوں ان معصوموں کو اکیلا باہر بھیجتے ہو
اپنے ہاتھوں سے درندوں کے ہاتھ میں دیتے ہو

اگر نہ کی تم نے اپنے معاشرے سے دور برائی
تو اسی طرح ہوتی رھے گی معصوم بیٹیوں کی رسوائی

آج بنت حوا ہر طرف دیتی ہے یہ دھائی
کب ہو گی ہمارے اوپر کیئے گئے ظلموں کی سنوائی

Rate it: Views: 21 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 23 Jan, 2018
About the Author: ام بلال

Visit 14 Other Poetries by ام بلال »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
اسلام و علیکم۔ بہت اچھے طریقے سے بات سمجھائ ہے۔
By: Palvisha, karachi on Feb, 08 2018
Reply Reply to this Comment
اسلام و علیکم۔ بہت اچھی طرح قصور والے حادثے کو قلم کے ذریعے دوسروں تک پہنچایا ہے۔الله ہم سب کو اپنی حفاظت میں رکھیں۔آمین
By: daughter , Makkah on Jan, 31 2018
Reply Reply to this Comment
Assalam-o-Aliquim.Your poetry about QASOOR will In-Shah-Allah give the READER a lesson that they should be careful about his or her sister and daughter.
In-Shah-Allah.
By: daughter , madina on Jan, 31 2018
Reply Reply to this Comment
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.