یادیں ۔۔۔
Poet: عائشہ مجیب
By: ayesha mujeeb, karachi

ماضی کی منڈیر پر بیٹھیں ، بہت شور مچاتی ہیں
اپنی اور بلاتی ہیں ، یادیں بلبل ہوتی ہیں

جتنا پیار سے سوچو گے یہ آنسو دے کے جاتی ہیں
یاد تو پھر بھی آتی ہیں ، یادیں سنگدل ہوتی ہیں

کئی رازبھی پنہا ہیں ،اور خدشے بھی ہزاروں ہیں
کھو نہ جانا اس میں تم، یادیں جنگل ہوتی ہیں

عشق کے سوکھے صحرا میں ، گرج برس کو آتی ہیں
دل کی آگ بجھاتی ہیں ، یادیں جلتھل ہوتی ہیں

پہلے آتی جاتی سانسوں میں ارتعاش سا پیدا کرتی ہیں
پھر پورا وجود ہلاتی ہیں ، یادیں ہلچل ہوتی ہیں

کتنی گہری ، کتنی چوڑی ، کسی کو کچھ پتہ نہیں
جو سوچے وہ دھنستے جائے ، یادیں دلدل ہوتی ہیں

 

Rate it: Views: 3 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 09 Oct, 2017
About the Author: ayesha mujeeb

Visit 2 Other Poetries by ayesha mujeeb »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.