خوابوں میں ایک جشنِ طرب دیکھتی رہی
Poet: وشمہ خان وشمہ
By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

خوابوں میں ایک جشنِ طرب دیکھتی رہی
پھیلا ہوا سکوت عجب دیکھتی رہی

دریا کے پاس پیاس کی شدت بڑھا گئی
جس دھوپ میں، میں راہِ طلب دیکھتی رہی

یارانِ شہر پیار کے فرقوں میں بٹ گئے
اک میں اکیلی بت بنی سب دیکھتی رہی

وہ تو بچھڑ چکا تھا سرِ شام ہی مگر
اور ڈھلتی شب کا میں تو غضب دیکھتی رہی

وہ ہی تو ایک عشق میں صحرا نشین تھا
آنکھوں میں جس کے قہر و غضب دیکھتی رہی

آئے گا اب وہ لوٹ کے کیا آسمان سے
تاروں میں جس کا حَسب نسب دیکھتی رہی

اس راستے میں شہرِ تمنا نہ آئےگا
کیوں دن کے انتظار میں شب دیکھتی رہی

آنکھوں میں نور ہاتھ میں جنبش نہیں مگر
وشمہ میں اپنے حال میں سب دیکھتی رہی

Rate it: Views: 55 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 11 Jan, 2017
About the Author: washma khan washma

I am honest loyal.. View More

Visit 3996 Other Poetries by washma khan washma »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.