مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار میں روزے سے ہوں
Poet: Syed Zameer Jafri
By: Altaf, khi

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار میں روزے سے ہوں
ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار میں روزے سے ہوں

ہر کسی سے کرب کا اظہار میں روزے سے ہوں
دو کسی اخبار کو یہ تار میں روزے سے ہوں

میرا روزہ اک بڑا احسان ہے لوگو کے سر
مجھ کو ڈالو موتیے کے ہار میں روزے سے ہوں

میں نے ہر فائل کی دمچی پر یہ مصرع لکھ دیا
کام ہو سکتا نہیں سرکار میں روزے سے ہوں

اے مری بیوی مرے رستے سے کچھ کترا کے چل
اے مرے بچو ذرا ہوشیار میں روزے سے ہوں

شام کو بہر زیارت آ تو سکتا ہوں مگر
نوٹ کر لیں دوست رشتہ دار میں روزے سے ہوں

تو یہ کہتا ہے لحن تر ہو کوئی تازہ غزل
میں یہ کہتا ہوں کہ بر خوردار میں روزے سے ہوں

Rate it: Views: 13 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 11 Jan, 2017
About the Author: owais mirza

Visit Other Poetries by owais mirza »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.