اپنے انکار کے برعکس برابر کوئی تھا
Poet: Zafar Iqbal
By: nusrat, khi

اپنے انکار کے برعکس برابر کوئی تھا
دل میں اک خواب تھا اور خواب کے اندر کوئی تھا

ہم پسینے میں شرابور تھے اور دور کہیں
ایسے لگتا ہے کہیں تخت ہوا پر کوئی تھا

اس کے باغات پہ اترا ہوا تھا موسم رنگ
قابل دید ہر اک سمت سے منظر کوئی تھا

شک اگر تھا بھی تو مٹتا گیا ہوتے ہوتے
اور اب پختہ یقیں ہے کہ سراسر کوئی تھا

اس دل تنگ میں کیا اس کی رہائش ہوتی
یعنی اندر تو نہیں تھا مرے باہر کوئی تھا

شکل کچھ یاد ہے کچھ بھول چکی ہے اس کی
کوئی دن تھے کہ مکمل مجھے ازبر کوئی تھا

دائرے میں کبھی رکھا ہی نہیں اس نے قدم
اور محبت کے مضافات میں اکثر کوئی تھا

میں اسے چھوڑ کے خود ہی چلا آیا تھا کبھی
اور اب پوچھتا پھرتا ہوں مرا گھر کوئی تھا

یاوہ گو تھا ظفرؔ اس عہد خرابی میں کوئی
یاوہ گو ہی اسے کہتے ہیں سخن ور کوئی تھا

Rate it: Views: 35 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 15 Nov, 2016
About the Author: owais mirza

Visit Other Poetries by owais mirza »

Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.