قارونوں سے اس قوم کو بچا میرے مالک
Poet: Mubeen Nisar
By: Mubeen Nisar, Islamabad

قارونوں سے اس قوم کو بچا میرے مالک
چابیوں کے بوجھ تلے لوگ مر رہے ہیں

بھوک ہے اور حسرت آنکھوں میں
چولہے ٹھنڈے ہیں پر دل جل رہے ہیں

غریبوں کے نوالے چھین کے یہ اشرافیہ
جمہوریت کی آڑ میں ظلم کر رہے ہیں

انسانیت سسک سسک کر دم توڑ رہی ہے
سسکیوں سے در و دیوار بھی ڈر رہے ہیں

عصر_ نو_ رات ہے کرڑوں پر امید چہرے
اک دھندلا سا ستارہ تک رہے ہیں

دھرتی ماں کو گالی دے کر دندنا رہے ہیں
ایوانوں میں سازشوں کے دور چل رہے ہیں

کوئی ایوبی کوئی ٹیپو کوئی سپاہ سالار نہیں
سینے پھٹ جائیں گے طوفان اٹھ رہے ہیں

دیکھنا کہیں یہ بھی شام نہ ہو جائے
صبح روشن کی جانب اندھیرے بڑھ رہے ہیں

Rate it: Views: 52 Post Comments
 PREV All Poetry NEXT 
 Famous Poets View more
Email
Print Article Print 01 Sep, 2016
About the Author: mubeen nisar

Business, Physics & literature... View More

Visit 223 Other Poetries by mubeen nisar »
 Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.