“اگر وہ کبھی مجھے کہتا کہ میں پیچھے بیٹھ جاؤں تو میں صاف کہہ دیتی تھی کہ میں دوسری گاڑی میں چلی جاؤں گی، لیکن پیچھے نہیں بیٹھوں گی۔ مجھے نہیں پتا یہ عادت اچھی ہے یا بری، مگر میں ایسی ہی ہوں۔ میں وہی مانتی ہوں جو مجھے ٹھیک لگے۔ میں ہمیشہ اسی جگہ بیٹھتی ہوں جہاں میں خود بیٹھنا چاہتی ہوں۔”
ڈاکٹر نبیحہ علی خان کا یہ جملہ پوڈکاسٹ میں سامنے آیا تو سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ ڈاکٹر نبیحہ نے شادی سے پہلے کے اپنے رشتے کی ڈائنامکس یوں کھول کر بیان کیں کہ پورا پوڈکاسٹ چند گھنٹوں میں وائرل ہوگیا۔ حارث کھوکھر، جو اب ان کے شوہر ہیں، گفتگو میں بار بار مسکراتے رہے اور یہی مؤقف اپنایا کہ وہ خود چاہتے تھے کہ نبیحہ ہمیشہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھیں، کیونکہ ان کی محنت، لگن اور کام کے لیے دی گئی قربانیوں نے انہیں اس مقام تک پہنچایا ہے۔
نومبر 2025 میں مولانا طارق جمیل کی موجودگی میں ہونے والی ان کی شادی پہلے ہی سوشل میڈیا کا بڑا موضوع بن چکی تھی۔ نبیحہ کا شاہانہ جوڑا، چمکتے زیورات اور غیر معمولی اندازِ نکاح نے سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی۔ لیکن شادی کے بعد بھی ان کی مقبولیت کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی گئی۔ ہر نیا بیان، ہر نیا ویڈیو کلپ، ہر نئی گفتگو چند ہی لمحوں میں ٹاپ ٹرینڈ بن جاتی ہے۔
تاہم تازہ پوڈکاسٹ نے صورتحال کو مزید دلچسپ بنا دیا۔ جہاں ان کے چاہنے والے انہیں ایک مضبوط اور پراعتماد عورت قرار دے رہے ہیں، وہیں ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نبیحہ اپنے رویّے میں حد سے زیادہ کنٹرولنگ ہیں۔ ایک صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ حارث کھوکھر کو ایک ہی رشتے میں بیوی بھی مل گئی اور ماں بھی اتنا کنٹرول تو کوئی مان بھی اپنی اولاد پر نہیں کرتی یہ تبصرہ چند گھنٹوں میں وائرل ہوگیا اور سینکڑوں لوگوں نے اس پر اپنی رائے دینا شروع کر دی۔
ڈاکٹر نبیحہ علی خان پہلے بھی دوسری شادی، مرد و زن کے حقوق اور شادی کے معاملات پر اپنے بیانات کی وجہ سے بحث کا مرکز رہی ہیں، اور اب ان کا یہ نیا اعتراف ایک بار پھر انہیں سوشل میڈیا کی دنیا میں شہرت کے طوفان کے بیچ لا کھڑا کر چکا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی موجودگی نہ صرف خبروں کا حصہ بنتی جارہی ہے بلکہ سوشل میڈیا کے مزاج کو بھی مسلسل بدل رہی ہے۔