چہرہ ایک جانب سے لٹک گیا تھا اور۔۔ مرینہ خان کو کیا بیماری تھی؟ پہلی بار بول پڑیں

image

“میں اپنے کیریئر کے عروج پر تھی جب مجھے اچانک فیشل پرالسس ہوگیا۔ میرے چہرے کا ایک حصہ ڈھلک گیا تھا، مگر میں نے لوگوں کے جج کرنے کی کبھی پرواہ نہیں کی۔ میں عام زندگی گزارتی رہی۔ ایک بار ایک بزرگ نے تو مذاق میں مجھے کہا کہ شادی میں اسٹیج کے قریب نہ کھڑی ہونا، دلہا سمجھے گا تم اسے آنکھ مار رہی ہو، کیونکہ میری ایک آنکھ کھلی رہتی تھی۔ بعد میں میں ٹھیک ہوگئی اور اس بیماری نے کبھی مجھے عدم اعتماد کا شکار نہیں ہونے دیا۔”

پاکستانی ٹیلیویژن کی مقبول ترین اداکارہ مرینہ خان، جو تنہائیاں اور دھوپ کنارے جیسے کلاسک ڈراموں کے ذریعے ہر گھر کی پہچان بنیں، ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ مگر اس بار وجہ کوئی نیا پروجیکٹ نہیں بلکہ ان کی وہ حیران کن طبی کہانی ہے جو انہوں نے پہلی بار سامنے لائی ہے۔

مرینہ خان نے بتایا کہ اپنے کیریئر کے سنہرے دور میں انہیں فیشل پرالسس جیسی خوفناک بیماری کا سامنا کرنا پڑا۔ اس بیماری نے ان کے چہرے کے ایک حصے کو مفلوج کر دیا تھا، مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انہوں نے کبھی اسے اپنی کمزوری نہیں بننے دیا۔ نہ وہ کیمرے سے دور ہوئیں، نہ زندگی سے۔

مرینہ نے ہنستے ہوئے بتایا کہ ایک خاندانی شادی میں ایک بزرگ نے انہیں تنبیہ کی کہ اسٹیج کے قریب مت جانا، ورنہ دلہا سمجھے گا کہ وہ اسے آنکھ مار رہی ہیں۔ اس مزاحیہ جملے نے اس مشکل وقت میں بھی انہیں ہنسنے کی ہمت دی اور وہ اسی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتی رہیں۔

یہ وہی مرینہ خان ہیں جنہیں لوگ نہ صرف ان کی باکمال اداکاری بلکہ ان کی وقار، سادگی اور ہمت کے لیے بھی پسند کرتے ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے ہمت نہ ہارتے ہوئے ہدایاتکاری کا آغاز کیا اور دستک اور پردیس جیسے سماجی موضوعات پر بننے والے ڈرامے ڈائریکٹ کیے۔

مرینہ خان کی یہ کہانی اس بات کی زندہ مثال ہے کہ شہرت، خوف یا تنقید کبھی بھی کسی مضبوط عورت کے قدم نہیں روک سکتے۔ اور یہی مضبوطی آج بھی انہیں لاکھوں دلوں کی پسند بنائے ہوئے ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US