افغانستان نے ٹی ٹی پی کے لوگوں کو گرفتار کیا، مگر چند سو کو پکڑنا کافی نہیں ہے، نائب وزیر اعظم

image

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغانستان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے چند افراد کو گرفتار کیا ہے تاہم پاکستان نے افغان قیادت پر واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے چند سو گرفتاریاں کافی نہیں ہیں۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ کابل کے دورے کے دوران افغان وزیر خارجہ امیر متقی نے بتایا کہ انہوں نے ٹی ٹی پی کے چند لوگوں کو گرفتار کیا ہے مگر پاکستان نے واضح مؤقف اپنایا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے افغان حکومت کو تجویز دی کہ یا تو ٹی ٹی پی کو پاکستان کے حوالے کرے یا انہیں پاک افغان سرحد سے دور منتقل کرے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے دورہ کابل کے بعد کیے گئے تمام وعدے پورے کیے اور اچھی نیت کے ساتھ اقدامات کیے، لیکن افسوس کہ افغانستان نے انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اپنے وعدے وفا نہیں کیے جس کے باعث دہشت گردی کی صورتحال مزید خراب ہوئی۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ انہوں نے ماسکو، بحرین اور برسلز کے اہم دورے کیے، ماسکو میں ایس سی او سربراہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی اور علاقائی روابط، توانائی اور معاشی ترجیحات سے متعلق پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ اجلاس میں صدر پیوٹن نے بھی شریک وفود کے سربراہان سے ملاقات کی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ برسوں بعد یورپی یونین کے صدر سے ملاقات خوشگوار رہی، برسلز میں ساتویں اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں کشمیر، سندھ طاس معاہدہ، دہشت گردی، افغانستان، جی ایس پی پلس سمیت اہم معاملات زیر بحث آئے۔ انہوں نے یورپی یونین کے 27 ممالک کو پاکستان اور افغانستان کی صورتحال پر بریفنگ دی اور بتایا کہ انہیں ملنے والی کئی معلومات درست نہیں ہوتیں۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین نے پاکستان کے مؤقف کو سنا اور تسلیم بھی کیا۔ پاکستان نے واضح کیا کہ علاقائی امن کے لیے افغانستان کی جانب سے کیے گئے وعدوں کا پورا ہونا ناگزیر ہے۔

اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان امن چاہتا ہے اور خطے میں پائیدار استحکام کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے مگر دہشت گردی پر کنٹرول کے لیے افغانستان کی مؤثر اور عملی شراکت انتہائی ضروری ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US