کسی بھی ملک کے لیے ’تیسری دنیا‘ کی اصطلاح کا استعمال توہین آمیز سمجھا جاتا ہے۔ 2022 میں اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرس نے کہا تھا کہ ’تیسری دنیا کی اصطلاح پرانی اور توہین آمیز ہے۔ اب ہم ترقی پذیر ممالک یا گلوبل ساؤتھ کی بات کرتے ہیں۔‘

بدھ کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے قریب ہونے والے حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ’تیسری دنیا‘ کے ممالک کے شہریوں کے امریکہ آنے پر مستقل پابندی لگائیں گے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ ’تیسری دنیا‘ میں کون سے ممالک شامل ہیں یا ان کے اعلان کا اطلاق کن ممالک پر ہوگا۔
اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’تیسری دنیا‘ کیا ہے اور اس میں کون سے ممالک شامل ہیں؟ کیا پاکستان یا انڈیا بھی اس فہرست میں موجود ہیں؟

’تیسری دنیا‘ کیا ہے؟
’تیسری دنیا‘ کی کوئی واضح جغرافیائی یا لفظی تعریف نہیں ہے۔ یہ اصطلاح عام طور پر غریب اور پسماندہ ممالک کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
یہ اصطلاح خاص طور پر 20ویں صدی کے دوسرے نصف میں مقبول ہوئی جب دنیا کے بہت سے ممالک یورپی نوآبادیات سے آزاد ہو رہے تھے۔
’تیسری دنیا‘ کی اصطلاح عالمی صنعتی ممالک کو جوڑنے والے معاشی اور سیاسی تعلقات سے باہر کی قوموں کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی گئی تھی، جن میں سے اکثر سابق یورپی کالونیاں تھیں۔
تاہم ’تیسری دنیا‘ کی اصطلاح اصل میں ان ممالک کے لیے استعمال کی گئی تھی جو سرد جنگ کے دوران نہ تو مغربی سرمایہ دارانہ بلاک اور نہ ہی سوویت کمیونسٹ بلاک کا حصہ تھے۔
ایک طرف امریکہ کی قیادت میں ’پہلی دنیا‘ تھی، دوسری طرف سوویت یونین کی قیادت میں ’دوسری دنیا‘ تھی۔ ایک ’تیسری دنیا‘ اُبھر رہی تھی جو ان دونوں کے دائرہ کار سے باہر تھی۔
تاہم بعد میں ’تیسری دنیا‘ کی اصطلاح ان ممالک کے لیے استعمال کی گئی جو غریب، ترقی میں پسماندہ یا ترقی پذیر تھے۔

یہ اصطلاح کہاں سے آئی؟
’تیسری دنیا‘ کی اصطلاح سب سے پہلے فرانسیسی ڈیموگرافر الفریڈ سووی نے 1952 میں استعمال کی۔
ایک مضمون میں اس نے لکھا کہ ’یہ تیسری دنیا، نظر انداز، حقیر، استحصال کا شکار، تھرڈ سٹیٹ کی طرح بھی کچھ بننا چاہتی ہے۔‘
ڈیموگرافر اور ماہر اقتصادیات الفریڈ سووی نے پہلی بار ’تیسری دنیا‘ کی اصطلاح تھرڈ سٹیٹ (کسانوں، مزدوروں، عام لوگوں) کے لیے استعمال کی جو فرسٹ سٹیٹ ’پادری‘ اور سیکنڈ سٹیٹ ’اشرافیہ‘ کے استحصال کا شکار اور محروم طبقہ تھے۔
ایک طرح سے انھوں نے استحصال زدہ اور محروم ممالک کے لیے ’تیسری دنیا‘ کی اصطلاح استعمال کی۔
وہ ممالک جو استحصال اور محروم تھے لیکن آگے بڑھنا چاہتے تھے۔
تاہم ’تیسری دنیا‘ کے ممالک کی تعریف اور سمجھ آج بدل چکی ہے۔ ’تیسری دنیا‘ کی اصطلاح اب سیاسی اور اقتصادی حوالے سے شاذ و نادر ہی استعمال ہوتی ہے۔
اب ایسے ممالک کے لیے ’گلوبل ساؤتھ‘ یا ’ترقی پذیر ممالک‘ یا ’کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک‘ جیسے جملے استعمال کیے جاتے ہیں۔
توہین آمیز خطاب؟
فی الحال کسی بھی ملک کے لیے ’تیسری دنیا‘ کی اصطلاح کا استعمال توہین آمیز سمجھا جاتا ہے۔
2022 میں اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرس نے کہا تھا کہ ’تیسری دنیا کی اصطلاح پرانی اور توہین آمیز ہے۔ اب ہم ترقی پذیر ممالک یا گلوبل ساؤتھ کی بات کرتے ہیں۔‘
عام طور پر، اس میں کم فی کس مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی)، غربت کی زیادہ شرح، کمزور صنعتی ڈھانچہ، سیاسی عدم استحکام، یا جن کی معیشت بنیادی مصنوعات جیسے خام مال، زرعی مصنوعات، معدنیات کی برآمد پر مرکوز ہے۔
تاہم ماہرین نے تیسری دنیا کو بھی معاشی تصور کے بجائے سیاسی تصور سمجھا ہے۔
امریکی ماہر عمرانیات، مصنف، اور پروفیسر ارون لوئس ہورووٹز نے اپنی کتاب تھری ورڈز آف ڈویلپمنٹ: دی تھیوری اینڈ پریکٹس آف انٹرنیشنل اسٹریٹیفکیشن میں لکھا ہے، ’تیسری دنیا ایک سیاسی تصور ہے، معاشی نہیں۔۔۔ اس سے مراد وہ ممالک ہیں جو سرد جنگ کے دوران غیر منسلک رہے۔‘
1970 کی دہائی میں، ورلڈ بینک کے ماہر اقتصادیات ہولس چنری نے لکھا، ’تیسری دنیا کی اصطلاح اپنی افادیت کھو چکی ہے۔۔۔ یہ جنوبی کوریا جیسے ترقی یافتہ ممالک کو صومالیہ جیسی ناکام ریاستوں کے ساتھ اکٹھا کر دیتی ہے۔‘

کیا تیسری دنیا کی اصطلاح آج بھی زیرِ استعمال ہے؟
آج کے دور میں کسی بھی ملک کے لیے تیسری دنیا کی اصطلاح استعمال کرنا توہین سمجھا جاتا ہے۔
اب کسی ملک کو یا تو ’ترقی پذیر‘ یا ’فرنٹیئر‘ کہا جاتا ہے۔
ترقی پذیر قومیں وہ ہیں جو لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے بنیادی ڈھانچے جیسے کہ تعلیم، صحت اور تجارت کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ فرنٹیئر قومیں وہ ہیں جو ابھی اس عمل کا آغاز کر رہی ہیں۔
اقوام متحدہ بھی کچھ اقوام کو سب سے کم ترقی یافتہ (سابقہ چوتھی دنیا) سے تعبیر کرتا ہے۔
یہ وہ ممالک ہیں جو عالمی معاشی نظام، ٹیکنالوجی اور سیاست سے الگ تھلگ ہیں۔
دنیا کو معاشی اور سیاسی بنیادوں پر درجہ بندی یا تقسیم کرنے کے لیے بہت سی اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں۔
مثال کے طور پر پہلی دنیا ان ممالک کے لیے استعمال کی گئی ہے جو معاشی طور پر مضبوط ہیں۔
پہلی دنیا میں عام طور پر انتہائی صنعتی سرمایہ دار ممالک شامل ہیں۔ اگرچہ یہ اصطلاح اب پرانی ہوچکی ہے، آج پہلی دنیا کے ممالک کی فہرست میں جاپان، شمالی امریکہ اور مغربی یورپ شامل ہوں گے۔
کچھ مشرقی یورپی ممالک، جنوبی امریکی ممالک اور ایشیائی ممالک بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔
ایسے میں موجودہ تناظر میں تیسری دنیا کے ممالک کون ہو سکتے ہیں؟
’تیسری دنیا‘ کی اصطلاح اب ایک متروک اور توہین آمیز اصطلاح ہے۔
تاہم، موجودہ اقتصادی منظر نامے میں، اسے کم آمدنی والے یا کم ترقی یافتہ ممالک کو شامل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس وقت اقوام متحدہ کی سب سے کم ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں 44 ممالک ہیں، جن میں سے 32 افریقہ میں ہیں۔
افریقی ممالک میں انگولا، بینن، برکینا فاسو، برونڈی، وسطی افریقی جمہوریہ، چاڈ، کوموروس، کانگو، جبوتی، اریٹیریا، ایتھوپیا، گیمبیا، گنی، گنی بساؤ، لیسوتھو، لائبیریا، مڈغاسکر، ملاوی، مالی، موریطانیہ، سینیگال، صومالیہ، جنوبی سوڈان، سوڈان، ٹوگو، یوگنڈا، تنزانیہ، زیمبیا شامل ہیں۔
جبکہ ایشیا میں ایسے آٹھ ممالک ہیں جن میں افغانستان، بنگلہ دیش، کمبوڈیا، لاؤ پی ڈی آر، میانمار، نیپال، تیمور لیسٹے، یمن شامل ہیں۔
ایک کیریبین ملک ہیٹی اور پیسیفک میں کریباتی، سولومن جزائر، تووالو جزیرے شامل ہیں۔
انڈیا اور پاکستان دنیا کے کم آمدنی والے ممالک میں شامل نہیں ہے۔ تاہم، تیسری دنیا کے تاریخی تناظر میں، انڈیا ناوابستہ تحریک کا حصہ تھا اور اس لیے ان ممالک کو اسے تیسری دنیا میں شامل کیا گیا۔
تاہم، موجودہ اقتصادی تناظر میں نہ ہی انڈیا اور نہ پاکستان اس فہرست میں شامل ہیں۔
اگرچہ انڈیا دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہے تاہم انڈیا میں اقتصادی عدم مساوات کو تشویشناک سمجھا جاتا ہے۔