روس کے ریاستی مواصلاتی نگران ادارے روسکومنیڈزور نے عالمی سطح پر مقبول انسٹنٹ میسجنگ ایپ واٹس ایپ کو مکمل طور پر بلاک کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ حکام کے مطابق اگر واٹس ایپ روسی قوانین کی پاسداری نہ کرے تو اسے مکمل پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ اقدام اگست میں واٹس ایپ اور ٹیلی گرام کالز پر عائد پابندیوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ روسی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ واٹس ایپ اور دیگر پلیٹ فارمز بشمول میٹا فراڈ اور دہشتگردی کے کیسز میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو معلومات فراہم نہیں کر رہے۔
روسکومنیڈزور نے کہا کہ واٹس ایپ جرائم سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے ضوابط کی پاسداری میں ناکام رہا ہے۔ روسی صارفین کو ریاستی سرپرستی یافتہ میسجنگ ایپ میکس پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے تاہم اس ایپ میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن دستیاب نہیں۔
واٹس ایپ کی مالک امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے کہا ہے کہ روس اس لیے واٹس ایپ پر پابندی لگانے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ کمپنی نے صارفین کی محفوظ مواصلاتی معلومات روسی حکومتی اداروں کے ساتھ شیئر کرنے سے انکار کیا ہے۔
واضح رہے کہ ٹیلی گرام اور واٹس ایپ روس کی دو سب سے مقبول میسجنگ سروسز ہیں لیکن روسی حکومت کا مطالبہ ہے کہ دہشتگردانہ سرگرمیوں اور فراڈ کی تحقیقات کے لیے صارفین کے ڈیٹا تک رسائی فراہم کی جائے۔