حضور اکرم ﷺ کے چچا کا حضرت عمر ؓ کے خلاف مقدمہ

(Khawaja Mussadiq Rafiq, Karachi)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا مکان مسجد نبوی سے ملا ہوا تھا اور گھر کا پر نالہ مسجد نبوی میں گِرتا تھا۔بعض دفعہ پر نالے کے پانی سے نمازیوں کو تکلیف ہوتی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں نمازیوں کی سہولت کے لیے پرنالہ اکھڑوا دیا۔اس وقت حضرت عباس رضی اللہ عنہ گھر میں موجود نہ تھے حضرت عباس رضی اللہ عنہ گھر آئے تو انہیں بہت غصہ آیا۔انہوں نے فوراَ قاضی سیدنا ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نام فرماں جاری کردیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا نے آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہےا س لیے مقررہ تاریخ کو عدالت میں پیش ہوں اور مقدمے کی پیروی کریں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ مقررہ تاریخ کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مکان پر حاضر ہوگئے۔

حضرت ابن بن کعب رضی اللہ عنہ مکان کے اندر لوگوں کے مسائل حل کرنے میں مصروف تھے اس لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو کافی دیر باہر کھڑے ہو کر انتظار کر نا پڑا مقدمہ پیش ہوا تو حضر ت عمر رضی اللہ عنہ کے کچھ کہنا چاہا لیکن ابی بن کعب نے انہیں روک دیا اور کہا کہ مدعی کا حق ہے کہ وہ پہلے دعوی پیش کرے۔

مقدمے کی کاروائی شروع ہوئی حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بیان دیا کہ جناب عالی! میرے مکان کا نالہ شروع سے ہی مسجد نبوی کی طرف تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضر ت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی یہی تھا۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میری عدم موجودگئ میں نالہ اکھڑوا دیا مجھے انصاف فراہم کیا جائے کیونکہ میرا نقصان ہوا ہے۔

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا بے شک تمہارے ساتھ انصاف ہوگا،امیر المومنین!آپ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتے ہیں قاضی نے پوچھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ جواب دیا قاضی صاحب اس پرنالے سے بعض اوقات چھینٹیں اڑ کر نمازیوں پر پڑتی تھیں۔نمازیوں کے آرام کی خاطر میں نے پرنالہ اکھڑوا دیا اور میرا خیال ہے یہ ناجائز نہیں ہے۔ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟

حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا قاضی صاحب اصل بات یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چھڑی سے مجھے نشان لگا کردئیے کہ میں اس نقشے پہ مکان بناؤں میں نے ایسے ہی کیا ۔پرنالہ خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہاں نصب کروایا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں پر کھڑا ہو کر یہاں پرنالہ لگاؤں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احترام کی وجہ سے انکار کیا۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت اصرار کیا اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں پر کھڑا ہوگیا اور یہ پرنالہ یہاں لگایا جہاں سے امیر المومنین نے اکھڑوا دیا۔

قاضی نے پوچھا آپ اس واقعہ کا کوئی گواہ پیش کرسکتے حضرت عباس رضی اللہ عنہ فوراَ باہر گئے اور چند انصار کو ساتھ لائے جنہوں نے گواہی دی کہ واقعی یہ پرنالہ حضر ت عباس رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کندھوں پر کھڑے ہوکرنصب کیا تھا۔مقدمے کی گواہی کے ختم ہونے بعد خلیفہ وقت نگاہیں جھکا کر عاجزانہ انداز سے کھڑا تھا۔یہ وہ حکمران تھا جس سے قیصر و کسری بھی ڈرتے تھے۔حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
"اللہ کے لیے میرا قصور معاف کردو مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ نالہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہاں لگوایا ہے ورنہ میں کبھی بھی اسے نہ اکھڑواتا۔جو غلطی مجھ سے ہوئی وہ لاعلمی میں ہوئی آپ میرے کندھوں پہ چڑھ کر یہ پرنالہ اپنی جگہ پر لگادیں"

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:ہاں انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ اتنی وسیع سلطنت پہ حکمرانی کرنے والے حکمران لوگوں کو انصاف مہیا کرنے کے لیے دیوار کے ساتھ کھڑا تھا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ نالہ نصب کرنے کے لیے ان کے کندھوں پر کھڑے تھے۔پرنالہ لگانے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ فوراَ نیچے اترے اور فرمایا امیر المومنین میں نے جو کچھ کیا اپنے حق کے لیے جو آپ کی انصاف پسندی کے باعث مل گیا اب میں آپ سے بے ادبی کی معافی مانگتا ہوں۔

اس کے ساتھ ہی حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا مکان اللہ کے راستے میں وقف کردیا امیر المومنین کو اختیار دیا کہ وہ میرا مکان گِرا کر مسجد میں شامل کر لیں تاکہ نماز یوں کی جگہ کی تنگی سے جو تکلیف ہوئی وہ بھی کم ہوجائے ۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
14 Nov, 2017 Total Views: 2514 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB