خواتین کی اصلاح معاشرے کی ضرورت

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: بنت عطاء، کراچی
کسی بھی قوم یا معاشرے کی اصلاح و تعمیر میں جو بنیادی کردار خواتین ادا کرتی ہیں وہ کسی ہوشمند سے مخفی نہیں۔ معاشرے کی اصلاح نسبت مردوں کے خواتین کی اصلاح کے ذریعے زیادہ ممکن ہے۔ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے اور بچے کسی بھی قوم کے مستقبل کا معمار ہوتے ہیں۔ بہترین مستقبل کے لیے ان معماروں کی بہترین تربیت کی ضرورت ہے جو وہی ماں کرسکتی ہے جو خود باشعور ہو۔خواتین میں نسبت مردوں کے بہت سی اخلاقی و دینی خرابیاں پائی جاتی ہیں جن کے سدباب کی اشد ضرورت ہے۔ اسی لیے نبی مہربان صلی اﷲ علیہ وسلم نے خواتین کی اصلاح کی طرف خصوصی توجہ فرمائی۔ ان کے لے علیحدہ مجلسیں منعقد فرمائیں جہاں خواتین سے دینی احکامات بیان فرماے۔

خواتین میں غیب کی کثرت
غیبت خواتین میں پائی جانے والی بہت ہی عام بیماری ہے۔ دو خواتین ایک جگہ اکھٹی بیٹھی ہوں اور وہاں غیبت نہ ہو یہ امر محال ہے۔ یہ اتنا سنگین گناہ ہے کہ بیک وقت اﷲ اور بندے کی حق تلفی کو شامل ہے۔ شب معراج کے موقع پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے چہرے اور بدن کو نوچ رہے تھے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ کون لوگ ہیں تو جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا یہ وہ لوگ ہیں جو غیبت کیا کرتے تھے" (ترمذی)۔ اسی طرح فرمان باری ہے کہ: ’’ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم یہ پسند کروگے کہ اپنے مردار بھائی کا گوشت کھاو‘‘ یعنی غیبت ایسا مذموم فعل ہے جیسے مسلمان مردار بھائی کا گوشت کھانا۔جس طرح غیبت کرنا حرام ہے غیبت سننا بھی حرام ہے ہر ممکن کوشش کر کے خود کو اس سے بچایے۔

خواتین حسد کرتی ہیں
دوسری اخلاقی خرابی جو عموما خواتین میں پائی جاتی ہے وہ حسد ہے۔ حسد دوسرے سے زوال نعمت کی تمنا کرنے کو کہتے ہیں خواہ وہ نعمت خود اسے حاصل ہو یا نا ہو۔ یہ حرام ہے۔ یہ ایسا گندا مرض ہے جو انسان کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹتا رہتا ہے۔ اس کا ذہنی سکون دوسرے سے اس نعمت کے چھن جانے کی تمنائیں کرتے ختم ہوکر رہ جاتا ہے۔ نیز یہ ایمانی کمزوری کی علامت بھی ہے کہ انسان دوسرے کے پاس موجود نعمتوں پر کڑھے۔ اگر ایمان مضبوط ہوگا تو انسان اﷲ کی تقسیم پر راضی رہے گا۔

خواتین میں فضول خرچی
تیسری بڑی خرابی جو خواتین میں بکثرت پائی جاتی ہے وہ فضول خرچی ہے۔ خصوصا تقاریب کے موقع پر غیر شرعی رسومات پر بے جا خرچ اس نیت سے کرنا کہ دوسروں پر بڑائی جتلائی جاسکے۔ فرمان باری تعالی ہے کہ ’’بلاشبہ فضول خرچی کرنے والا شیطان کا بھائی یا دوست ہے‘‘۔

بے پردگی
اسی طرح خواتین پردے کے معاملے میں بہت غفلت برتتی ہیں۔ غیر محرم رشتہ داروں بالخصوص کزنز سے پردے نہیں کیا جاتا ۔حالانکہ پردہ عورت کی زینت بھی ہے اور ضرورت بھی۔ اگر شرعی نکتہ سے دیکھا جائے تو پردہ عورت پر فرض کیا گیا ہے۔ عموما شادی بیاہ کے مواقع پر بجتا زیور پہننا، خوشبو سے معطر ہوکر باہر نکلنا، غیر شرعی لباس زیب تن کرکے نکلنا روٹین بن چکی ہے۔ یہ تمام فعل معاشرے میں برائی اور فتنے کا سبب بن رہے ہیں۔ لباس ایسا ہونا چاہیے جو باعث زینت بھی ہو حیا دار بھی ہو۔ اسلام فیشن سے منع نہیں فرماتا بلکہ فیشن کے نام ہر بے حیائی سے منع فرماتا ہے۔ حدود کے اندر آپ جتنا چاہیں فیشن کے تمام شوق پورے کیے جاسکتے ہیں۔ پردہ غیرت کی علامت بھی ہے۔ خود کو غیروں کی نظروں سے بچانا ایمانی و فطری غیرت کا تقاضہ ہے۔ اسی بے پردگی کے تباہ کن اثرات انسان کی روحانیت اور اخلاق و کردار کو تباہ کرکے رکھ دیتے ہیں۔

خواتین میں بدگمانی اور جاسوسی کرنا
ایک برائی خواتین میں یہ پائی جاتی ہے کہ وہ بدگمانی بہت کرتی ہیں۔ بدگمانی سے شروع ہوکر معمولی نوک جھونک گھر میں بڑی لڑائیوں کا باعث بن جاتی ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے بدگمانی سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ ایک دوسرے کی ٹوہ میں رہنا بھی خواتین کی عادات میں شامل ہے۔ ہر وقت اپنے پڑوسن یا گھر کی خواتین کی جاسوسی کرتی رہتی ہیں۔

آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ رہا کرو، اگر اﷲ چاہے تو تمہیں گھر کے اندر بھی رسوا کردے‘‘۔ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ ’’تم جاسوسی نہ کیا کرو‘‘۔

خواتین میں ان مرکزی برائیوں کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر چھوٹی چھوٹی خامیں بھی موجود ہیں۔ جیسا کہ معمولی سی بات کو خوب بڑھا کر ادھر سے ادھر پہنچا دینا جس سے خانہ جنگی کا ماحول پیدا ہوجائیے۔ حالانکہ چغل خور کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ جنت میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ خواتین سستی کی وجہ سے فرضی عبادت میں بھی لاپرواہ کرتی ہیں۔ حالانکہ خواتین گھر میں گھرداری سے فارغ ہوکر بہت حدتک اپنی عبادت پر توجہ دے سکتی ہیں۔ انہیں باہر کے معاملات میں خود کو انٹرفیئر ہونی کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اس طرح گھر میں خیر و برکت بھی رہے گی اور ماحول میں اچھائی ہوگی تو بچوں کے لیے بھی بہتر تربیت کا ماحول پیدا ہوگا۔ پھر شرعیت نے نیک عورت کو دنیا کا بہترین سامان قرار دیا ہے۔

خواتین میں ایک عجیب بات یہ بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ گھریلو استعمال کی ضرورت کی معمولی معمولی چیزیں بھی اپنے پڑوسیوں کو دینے میں بخل سے کام لیتی ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔ اسلام اس بات سے منع کرتا ہے کہ آپ سے کوئی چیز مانگی جائے اور آپ اس سے انکار کردیں۔ کچھ تو خواتین ایسی بھی ہیں کہ جن کے پاس اگر کوئی چیز اضافی آجائے تو صحیح حالت میں وہ اپنے پڑوسی کو نہیں دیں گی۔ جب وہ خراب ہونے لگے گی تب وہ اٹھا کر انہیں دیں گی۔ یعنی انتہائی بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ اگر اخلاقیات کی رو سے دیکھا جائے تو اس طرح کرنا یقینا بہت ہی غلط بات ہے۔

جو خواتین شادی شدہ ہیں انہیں اپنے شوہروں کی مکمل فرمانبرداری کرنی چاہیے۔ کچھ جگہوں پر یہ مسائل ضرور ہیں کہ شوہر کا رویہ یا گھر کا ماحول ایسا ہوجاتا ہے جہاں پر حالات سنگین رہتے ہیں مگر ہمیں ہی فرمانبرداری جاری رکھنی چاہیے۔ کیوں کہ یہ کام ہم صرف اور صرف اﷲ کی رضا کے لیے کرتے ہیں۔ اس طرح اﷲ تعالیٰ ہم سے خوش ہوجائے گا۔ شوہروں کی ناشکری آخرت برباد کر سکتی ہے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جہنم میں کثیر تعداد ان عورتیں کی تھی جو اپنے شوہروں کی نا فرمانی کرتی ہیں۔ (بخاری و مسلم)حق تو یہ ہے کہ جتنا میسر ہو اس پر خوش ہوجائیں۔ مگر یہاں حالت یہ ہے کہ شوہر ساری دنیا لاکر بھی قدموں میں رکھ دے خوش نہیں ہوتیں۔ اسلام میں شوہر کی عزت و تکریم کی بہت رکھی گئی ہے۔ فرمان نبوی ہے’’جس خاتون سے اس کا شوہر راضی ہو اوہ جنتی ہے (ترمذی)

خواتین میں ایک غیر معمولی حد تک یہ برائی بھی ہے کہ جب بھی تنگ ہوں گی اپنی اولاد کو یا بڑی بہنیں چھوٹے بہن بھائیوں کو بد دعائیں دیتی ہیں۔ بد دعا ہرگز نہیں دینی چاہیے۔ خدانخواستہ آپ کی وہ بد دعا قبول ہوگئی تو پھر ساری زندگی پچھتاوا ہوگا۔ اپنی اولاد کی بہترین تربیت کرنی چاہیے ۔ عموما یتیم بچوں اور سوتیلی اولاد سے حسن خلق کے بجائے بد سلوکی سے پیش آیا جاتا ہے۔ ان سے ہر معاملے میں زیادتی برتی جاتی ہے۔ اپنی سگی اولاد ہو یا پھر سوتیلی کسی بھی صورت بچوں کے ساتھ رویہ غیر مہذب نہیں اپنانا چاہیے۔ بچوں کی بہترین تربیت اور کفالت کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اسی طرح محروم بچوں کی بدعا بھی اﷲ تعالیٰ کے ہاں بہت مقام پاتی ہے۔ مظلوم اور یتیم بچوں کی بدعا سے بچنا چاہیے۔

یاد رکھیں! عورت نسلیں سنوار بھی سکتی ہے اور بگاڑ بھی سکتی ہے۔ یہ آپ کا اخلاقی اور دینی فریضہ ہے کہ آپ خود بہتر سے بہتر بناتے ہوئے معاشرے کو ایک صحت مند اور باشعور نسل دیں۔ بروز قیامت ہر ایک سے اس کے ہر چھوٹے بڑے عمل کا حساب ہوگا۔
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
14 Nov, 2017 Total Views: 50 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 399 Articles with 82527 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB