متبادلات( فلسفیئے)

(Prof Niamat Ali Murtazai, )

 (۲۰۱۷؁ء۔۱۱۔۱۱، ہفتہ)
۱۔ انسان متبادلات کی تلاش میں رہتا ہے۔
۲۔ زندگی متبادلات کا کھیل ہے۔
۳۔ متبادلات ، انسان کا رویہ بدل دیتے ہیں۔
۴۔ انسان، کسی چیز کو اس کے متبادل کے پیشِ نظر ہی چھوڑتا ہے۔
۵۔ متبادلات ، انسان کو سہارا اور حوصلہ دیتے ہیں۔
۶۔ انسان، متبادلات میں سے بھی انتخاب کرتا ہے۔
۷۔ دنیا اور آخرت بھی ایک دوسرے کی متبادل ہے۔
۸۔ بہتر متبادلات اختیار کرنے کا دوسرا نام ’ترقی‘ ہے۔
۹۔ کبھی چراغ، کبھی لالٹن، کبھی موم بتی، کبھی بلب، کبھی ٹیوب اور اب اینر جی سیور۔۔۔متبادلات ہی تو ہیں۔
۱۰۔ کبھی ٹانگا، کبھی سائیکل ،کبھی رکشہ، کبھی سیونٹی، کبھی ون ٹو فائیو، کبھی کار۔۔۔۔۔متبادلات ہیں۔
۱۱۔ کبھی ندی کا پانی، کبھی کنویں کا پانی، کبھی نلکے کا پانی، کبھی موٹر کا پانی ، کبھی سرکاری پانی، اور اب نیسلے کا پانی۔۔۔
۱۲۔ کبھی کبوتر کی ڈاک، کبھی گھوڑے کی ڈاک، کبھی گاڑی اور جہاز کی ڈاک اور اب ای میل کی ڈاک۔۔۔۔
۱۳۔ نیکی اور بدی بھی متبادلات کا انتخاب ہی ہے۔
۱۴۔ اِس دنیا کو اُس دنیا پر ترجیح دینا بدی اور اُس دنیا کو اِس دنیا پر ترجیح دینا نیکی۔
۱۵۔ زندگی اور موت ، خوشی و غم، امیری وغریبی وغیرہ بھی متبادلات میں سے ہیں۔
۱۶۔ الفاظ کے متبادلات بھی زندگی میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔
۱۷۔ الفاظ کے متبادلات سے مفاہیم میں بہت بڑا فرق آ جاتا ہے۔
۱۸۔ الفاظ کے متبادلات ،ادب سے بے ادبی، اور بے ادبی سے ادب میں لے آتے ہیں۔
۱۹۔ الفاظ کے متبادلات سے ذہن کے احساس بدل جاتے ہیں جیسے آدھے خالی برتن کو آدھا بھرا کہہ دینا۔
۲۰۔ الفاظ کے متبادلات سے اپنے اور بیگانے کا فرق پڑ جاتا ہے۔
۲۱۔ الفاظ کے متبادلات سے مذہب کی تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔
۲۲۔ الفاظ کے متبادلات سے زبانیں اور بولیاں پہچانی جاتی ہیں۔
۲۳۔ لباس کے متبادلات سے قوموں کی پہچان ہوتی ہے۔
۲۴۔ لباس کے متبادلات سے عمر اور علاقے کا احساس واضح ہوتا ہے۔
۲۵۔ لباس کا متبادل شخص کی کیفیت کا مظہر ہے۔
۲۶۔ لباس کا متبادل شخص کے سماجی، مذہبی، سرکاری عہدے اور پیشے کو ظاہر کرتا ہے۔
۲۷۔ طلبہ و طالبات میں لباس کا متبادل مختلف سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا اظہار ہے۔
۲۸۔ لباس کا متبادل زندہ اور مردہ کے مابین فرق بھی ہے، جیسے کفن بھی ایک لباس ہے۔
۲۹۔ کھانوں کے متبادل بھی علاقوں، پیشوں اور مزاجوں کے مظہر ہیں۔
۳۰۔ کھانوں کے متبادلات امیر اور غریب کا فرق بھی نمایاں کرتے ہیں۔
۳۱۔ مہنگے ہوٹلوں پر امیروں اور سستے ہوٹلوں پر غریبوں کا رش ہوتا ہے۔
۳۲۔ کھانوں کا متبادل لوگوں کی صحت ، عمر ، جیب اور جِیب کا اظہار ہے۔
۳۳۔ دوستوں کے متبادلات ساری زندگی ملتے، بچھڑتے رہتے ہیں۔
۳۴۔ ایسے دوست بہت کم ملتے ہیں جن کے متبادل کبھی نہیں ملتے۔
۳۵۔ ہر نئی جگہ ، ماحول اور وقت میں نئے دوست بن جاتے ہیں۔
۳۶۔ اگر نئے دوست بہتر متبادل ہوں تو پرانے فراموش ہو جاتے ہیں، ورنہ پرانے زیادہ یاد آتے ہیں۔
۳۷۔ محبت کے متبادلات بہت کم ملتے ہیں لیکن پھر بھی مل جاتے ہیں۔
۳۸۔ ناولوں ، کہانیوں وغیرہ میں ایک شخص کئی محبتیں کرتا دکھایا جاتا ہے۔
۳۹۔ ماں باپ کے متبادل ملنا ممکن نہیں۔
۴۰۔ استادوں کے متبادل بھی دوستوں کی طرح کئی مل جاتے ہیں۔
۴۱۔ مذاہب کے متبادلات بہت کم قبول کئے جاتے ہیں، اکثر لوگ اپنے مذہب پر ہی رہتے ہیں۔
۴۲۔ سیاسی متبادلات اکثر اختیار کرلئے جاتے ہیں کیوں کہ لوگوں کی اکثریت مطلبی ہو تی ہے۔
۴۳۔ وفادار لوگ اپنے استعمال کی چیزیں بھی زیادہ نہیں بدلتے، جب کہ بے وفا کچھ بھی بدلنے میں دیر نہیں لگاتے۔
۴۴۔ نیا زمانہ نئے متبادلات لاتا ہے۔
۴۵۔ متبادلات ہر شعبے میں آتے ہیں۔
۴۶۔ سوچوں کے متبادلات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
۴۷۔ نظریات کے متبادلات محدود ہوتے ہیں۔
۴۸۔ بچپن، جوانی اور بڑھاپے کے ساتھ ساتھ متبادلات بدلتے چلے جاتے ہیں۔
۴۹۔ بعض متبادلات ہمارے اختیار میں ہوتے ہیں اور بعض اختیار سے باہر ہوتے ہیں۔
۵۰۔ وقت کا شاید کوئی متبادل نہیں۔
۵۱۔ رستوں کے متبادل آسانی یا مجبوری کی صورت میں اختیار کئے جاتے ہیں۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
14 Nov, 2017 Total Views: 96 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Niamat Ali

LIKE POETRY, AND GOOD PIECES OF WRITINGS.. View More

Read More Articles by Niamat Ali: 115 Articles with 48654 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB