کیا بات ہے فجی کی

(Asrar Ahmed, )

تھائی لینڈ کی سیر کے بعد میری اگلی منزل جنوبی بحرالکاہل میں واقع تین سو تیس جزیروں پر مشتمل نو لاکھ آبادی والا چھوٹا سا ملک فجی تھا۔فجی کیلئے فلائٹ سنگاپور کے چانگی ائیرپورٹس سے روانہ ہونا تھی اس لئے بنکاک سے سنگاپور آنا پڑا۔میرے پاس سنگاپور کا ڈبل انٹری ویزہ تھا مگر قلت وقت کی وجہ سے رکنا نا مناسب سمجھا ۔چنانچہ بورڈنگ کارڈ کے حصول کیلئے فجی ائیرویز کے کاؤنٹر سے رجوع کیا ۔امیگریشن آفیسر نے فجی کے ویزہ کی آن لائن منظوری طلب کی اور کہا کہ آپ انتظار کریں میں فجی امیگریشن ڈیپارٹمنٹ سے ویزہ کی تصدیق کرلوں۔تھوڑی ہی دیر کے بعد متعلقہ کاؤنٹر سے سنگارپور تا ناندی اور ناندی سے فجی کے دارالحکومت سووادونوں کے بورڈنگ کارڈز مل گئے۔ سنگاپور سے ناندی کیلئے مسلسل دس گھنٹے کی فلائٹ میری زندگی کی سب سے لمبی فلائٹ تھی ۔کچھ ہی دیر بعد جہاز کی نشستوں پر بٹھا دیا گیا۔واضح رہے کہ اس فلائٹ میں سامان کے وزن کی زیادتی کو ہرگز قبول نہیں کیا جاتا چنانچہ ٹکٹ پر لکھے گئے وزن سے تجاوز مسافر کیلئے مسئلہ بن سکتاہے۔

فجی لگ بھگ ایک سو دس آباد جزیروں اورمختلف نسلوں و قومیتیوں پر مشتمل جنوبی بحرالکاہل میں واقع نو لاکھ نفوس کا ملک ہے۔ فجی میں ستاون فیصد آئی توکی،اڑتیس فیصد ہندوستانی،ایک فیصد راتومین اور اعشاریہ پانچ فیصد یورپی و چائینیز اور دیگر نسلوں پر مشتمل آبادی ہے۔ زیادہ تر فجین عیسائی اس کے بعد ہندو اور ساڑھے چھ فیصداسلام کو ماننے والے ہیں جن میں مسلمان اور قادیانی شامل ہیں۔فجی میں بھی برطانوی راج رہا ہے تو اس لئے یہاں انگلش اور فجین دونوں سرکاری زبان کا درجہ رکھتی ہیں۔فجین انڈین عام طور پر اردو(ہندی) اسی طرح لوکل فجین عام طور پر فجین زبان جبکہ آپس میں گفتگو کیلئے انگلش زبان استعمال کرتے ہیں۔یہاں برطانوی دور حکومت رہا تھا جس میں کھیلوں کے میدان،پارکس،میوزیم ،سکولوں کے علاوہ بہت سارے چرچ بھی بنائے گئے ہیں ۔ان میں سے اکثر تاریخی عمارتیں اپنے پورے جاہ وجلال کے ساتھ ابھی بھی قائم و دائم ہیں۔فجی نے10اکتوبر1970 ء کو برطانوی راج سے آزادی حاصل کی اور راتو سر کماسیسے مارا آزادی کے بعد فجی کے پہلے وزیراعظم بنے تھے۔

فجی میں گاڑیوں پر سڑک کنارے پاکستان کی طرح سبزیاں اور مچھلیاں فروخت کی جاتی ہیں۔لوگ روزانہ ورزش کرتے ہیں ۔دنیا میں رگبی کے کھیل کو فجی کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے ۔گویا رگبی بھاری بھرکم،مضبوط جسمانی خدوخال،دنیا کے طاقتورترین دراز قد کاٹھ اور تندرست فجین لوگوں کی رگوں میں شامل ہے۔میرے ہوٹل کے آس پاس بہت سارے ڈانس کلب اور شراب خانے تھے۔فجی میں ہفتے میں دو چھٹیاں ہوتی ہیں یہ لوگ بھی یورپین اور امریکیوں کی طرح پانچ دن گدھوں کی طرح محنت کرکے اپنی کمائی کو ہفتے اور اتوار کی راتوں شراب خانوں اور عیاشی میں اڑادیتے ہیں۔فجین بہت صابر،مہمان نواز اور تحمل مزاج رکھتے ہیں یہ جھگڑے اور ہلڑ بازی سے نفرت کرتے ہیں ۔ان کی طبیعت میں چاشنی اور تحمل شاید خوشگوار موسم کی وجہ سے ہویا پھر بھانگ کی طرح یہ ایک قہوہ بھی پیتے ہیں جسے یاگونا کہا جاتا ہے کی وجہ سے ہے۔فجین لوگوں کی نجی اور سرکاری تقریبات حتی کہ فوتیدگی پر بھی یاگونا قہوہ پینا ان کی روایت ہے۔ لوگ ایک دوسرے کا بے حد احترام کرتے ہیں گھر آکر معذرت کرنے والے سنگین دشمن کو بھی معاف کردیا جایا ہے۔

میں نے ایک جگہ پڑھ رکھا تھا کہ فجی کے تویونی جزیرے میں ایک شخص کی قبر ہے جس نے ننانوے زندہ لوگوں کو کھا رکھاتھا۔سچ پوچھیں تو کینوبولزم یعنی انسانوں کو کھانے کے حوالے سے یہ تحریر پڑھ کر میرے دل میں بہت خوف تھا۔سنگاپور کے ائیرپورٹ پرجونہی جہاز کے اندر داخلہ ہوا تو طویل قامت اور مضبوط جسم کے افریقی النسل فیجین ائیرہوسٹس نے بلا(خوش آمدید) کہہ کر مخاطب کیا تو خوف میں مزید اضافہ ہوگیا۔مگر دل ناتواں میں فجی دیکھنے کا شوق ابھی بھی زندہ و جاوید تھا تو ہمت کرکے اپنی سیٹ کی جانب سہما ہوا لپکا اور سیٹ پر براجمان ہوگیا۔جو بھی کلمات اور سورتیں یاد تھیں سب پڑھ لیں،کیونکہ جہاز نے مسلسل دس گھنٹے تک محض سمندر پر پرواز کرنا تھی۔یہ واحد ائیر لائن ہے کہ جس میں کسی بھی مسافر کو خالی سیٹ پر بیٹھنے کی اجازت نہیں تھی۔عموماً فلائیٹس میں خالی نشستوں پر بیٹھنے دیا جاتا ہے۔اتنی لمبی فلائٹ میں میرے خیال میں خالی پڑی چارچار لائنوں والی نشستوں پر تو سونے کی اجازت ہونی چائیے تھی تاکہ بندہ تھوڑا آرام ہی کرلے۔اس ضمن میں ایک مسافر جس نے محض واش روم میں جانے کے انتظار میں خالی سیٹ پر تشریف رکھی اسے بھی وہاں سے اٹھا دیا گیا۔بظاہراتنے خوف ناک عملے سے بندہ لڑ بھی نہیں سکتا وہ کمزور سا انڈین مسافر تو بس ایک گھونسے کی مار تھا چنانچہ اس نے سیٹ سے اٹھنے کو ہی ترجیح دی۔

جہاز کے چالیس ہزار فٹ پر جانے کے بعد عملے نے کھانا پیش کرنا شروع کردیا۔میرے لئے حسب معمول سپیشل بکنگ کی وجہ سے حلال کھانا ترجیح بنیاد پر فراہم گیا تھا۔اس فلائٹ میں دومرتبہ کھانا پیش کیا گیا اسی دوران جہاز کے عملے نے مسافروں کو گرم چادریں مہیا کیں اور خود بھی مسافروں کی طرح اپنی سیٹوں پر جاکر سو گئے۔دس گھنٹے کے بعد جہاز نے ناندی ائیرپورٹ پر لینڈ کیا جس کی حالت فیصل آباد ائیرپورٹ سے کچھ بہتر تھی۔فجین لوگ موسیقی اور رقص کے دلدادہ ہیں چنانچہ مسافروں کو خوش آمدید کیلئے گلوکاروں پر مشتمل بینڈ سریلی دھن اور مدھر آواز میں بلا(ویلکم) سونگ گا رہاتھا۔جہاز نے رات بھر پرواز کے بعد آذان فجر کے وقت ناندی لینڈ کیا تھا۔سنگاپور اور تھائی لینڈ کی گرمی کے مقابلے میں یہاں موسم کافی خوشگوار تھا،تازہ ٹھنڈی ہوا گویا فجی میں ہمارا شاندار استقبال کررہی تھی۔میں نے روزنامہ ایکسپریس میں جاوید چوہدری کے کالم میں پڑھا تھا کہ فجین پاکستانیوں سے نفرت کرتے ہیں اور ان کا سامان خصوصی طور پر کھلوا کر چیک کیا جاتا ہے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس تھی۔مجھے کسی بھی طرح نہ تو الگ لائن میں کھڑا کیا گیا اور نہ ہی میرے سامان کو چیک کیا گیا۔کیونکہ میرے پاس آئن لائن ویزہ منظوری پہلے ہی تھی جسے میرے ایک دوست نے سپانسر کیا تھا کو امیگریشن کاؤنٹر پر دکھانے اور ویزہ کی فیس اکانوے فجین ڈالر جوکہ پاکستانی تقریباً پانچ ہزار روپے بنتے ہیں اداکئے ،جس کے بعد مجھے پندرہ دن کی انٹری دے دی گئی۔کرنسی کاؤنٹر سے امریکی ڈالرز کو فجین ڈالرز میں تبدیل کروایا ۔ایک فجین ڈالر تقریباً چون پاکستانی روپے کے برابر ہے۔

فجی میں دنیا میں سب سے پہلی فجر کی اذان ہوتی ہے۔میں خداوند کریم کا بے حد شکرگزارہوں کہ جس نے مجھے دنیا کے ان چند مسلمانوں میں شمار کیا کہ جنہوں نے اس دن دنیا میں سب سے پہلے فجر کی نماز ادا کی۔اﷲ پاک میری عبادات کو قبول فرمائے۔آمین! ناندی سے فجی کے دارالحکومت سووا میری فلائٹ تین گھنٹے بعد تھی اسی دوران میری ملاقات مقامی ٹور کمپنی کے مالک نبی محمد سے ہوئی انہوں نے بتایا کہ جب برطانوی حکومت نے تقریباً سو سال قبل فجی میں شوگر ملز لگائی تھیں تو ہمارے آباؤاجداد کو انڈیا سے یہاں ان ملوں میں کام کرنے کیلئے بطور مزدور لایا گیا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ وہ لکھنو کے باسی تھے اور کبھی بھی انڈیا نہیں گئے ان کا جینا مرنا اور اولاد ،کاروبار سب کچھ یہیں پر ہے۔ان کا ایک بیٹا آسٹریلیا کا مستقل شہری تھا اور وہ اکثر اس سے ملاقات کیلئے وہاں جایا کرتے ہیں۔ان بزرگ نے مجھے وضو اور مسجد کی نشاندہی میں مدد کی۔ناندی سے نیوزی لینڈ اور سڈنی آسٹریلیا کی فلائٹس تقریباً چار گھنٹے کی ہیں۔نبی محمد نے بتایا کہ وہ ائیرپورٹ پر ایک آسٹریلین شہری کا انتظار کررہے ہیں جو سیلف ڈرائیونگ پر انکی گاڑی رینٹ پر لیکر گیا ہواتھا۔اگر آپ کے پاس انٹرنیشنل موثر ڈرائیونگ لائسنس موجود ہو تو آپ فجی میں ڈرائیونگ کرسکتے ہیں۔فجی میں ٹریفک پولیس نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ ٹریفک سگنل بھی بہت ہی نایاب ہیں ۔مگر اس کے باوجود یہ لوگ نہ تو سگنل بریک کرتے ہیں اور نہ ہی بلاوجہ ہارن بجاتے ہیں۔ناندی ائیرپورٹ پر زیادہ تر آسٹریلین،امریکنوں اور نیوزی لینڈ کے سیاحوں کا رش تھا۔ سنگاپور سے آنے والی فلائٹ میں چند ہندوستانی اور میں اکیلا پاکستانی مسافر تھا۔ناندی سے بذریعہ بس ایک سو بیس کلومیٹر کا سفر تین گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔زیادہ تر لوگ تین گھنٹے بعد والی فلائٹ کا انتظار کرنے کی بجائے بس کے ذریعے جہاز سے پہلے سووا پہنچنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ فجی کے بالترتیب تین بڑے شہر ہیں جن میں ناندی،لاٹوکا اور سووا شامل ہیں۔یہ بس ناندی سے براستہ سنگا ٹو کا اور لا ٹوکا ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی سووا پہنچتی ہے اور راستے میں کئی مرتبہ سیاحوں کو مختلف ساحلوں ،ریزورٹس،اور پوائنٹس پر رک کر سیر کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔

تین گھنٹوں کے انتظار کے بعد فجی ائیر ویز کی لنک سروس کے اے ٹی آر بہتر طیارے کی ناندی سے سووا کیلئے آدھے گھنٹے کی فلائٹ نے ٹیک آف کیا۔یہ کھلے پنکھوں والا جہاز بہت شور کرتا ہے ائیر بس تین سو تیس کے مقابلے میں مسافر اس میں جلدی شور کی وجہ سے اکتا جاتے ہیں۔اس فلائٹ میں پینے کیلئے ایک چھوٹی پانی کی بوتل اور اخبار فراہم کیا جاتا ہے۔آدھے گھنٹے بعد جہاز نے سووا کے نوسوری ائیرپوڑت پر لینڈ کیا ۔یہ ائیرپورٹ فیصل آباد کے ائیرپورٹ سے بھی چھوٹا اور کم سہولیات سے آراستہ ہے ۔جہاز سے لگج بیلٹ پر سامان کو منتقل کرنے میں کافی وقت لگ گیا جس کے بعد سامان اٹھایا اور ٹیکسی کے ذریعے آدھے گھنٹے میں سووا شہر جو کہ ساحل سمندر پر واقع ہے کے قریب تانووا پلازہ ہوٹل میں پہنچ گیا۔یہ ہوٹل بھی پتایا تھائی لینڈ کی طرح ساحل سمندر پر واقع تھا جس سے ایک طرف سووا کا سرسبز شہر اور دوسری جانب سمندر کا حسین نظارہ تھا۔اس وقت ہلکی بوندا باندی اور تھنڈی ہوا چل رہی تھی۔سووا کو موسم بہت دلفریب تھا یہاں ناندی کے مقابلے میں زیادہ خنکی تھی۔

شام پانچ بجے تک آرام کے بعد بھوک کو مٹانے اور مزید کرنسی تبدیلی کیلئے ہوٹل کے استقبالیہ پر رابطہ کیا تو بتایا گیا کہ آپ بذریعہ ٹیکسی ڈیڑھ سے دوڈالر میں قریب ہی واقع ایم ایچ سی سی پلازہ میں چلیں جائیں آپ فوڈ کورٹ سے کھانا بھی کھا سکتے ہیں اور وہاں سے کرنسی بھی تبدیل کروائی جاسکتی ہے۔سووا شہر میں ایم ایچ سی سی اور تاپوسٹی آمنے سامنے دو ہی مشہور شاپنگ مالز ہیں جہاں پر آپ گراسری سے لیکر الیکٹرانکس،کھلونے خریداور کھانا وغیرہ کھا سکتے ہیں۔سووا میں سردیوں کا موسم تھا اور پاکستان میں اگست کے مہینے کی گرمی چالیس ڈگری کے مقابلے میں یہاں درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ بائیس ڈگری تھا اور بارش بھی روزانہ کا معمول تھی۔جب میں ہوٹل سے باہر نکلا تو ہلکی بارش ہو رہی تھی میرے پاس احتیاطً چھتری موجود تھی اگر آپ کے پاس چھتری نہ بھی ہوتو ہوٹل کے استقبالیہ سے آپ چھتری ادھار لے سکتے ہیں۔ہوٹل کے باہر کھڑے ہوکرکئی بار ٹیکسی کو رکنے کا اشارہ کیا مگر وہ نہ رکیں البتہ پیدل چلنے کو ہی غنیمت جانا اور دس منٹ کی مسافت کے بعد بہت بڑے شاپنگ مال کا تصور لیکر جب ایم ایچ سی سی پہنچا تو وہ اس کے برعکس بہت چھوٹا اور عام سا پلازہ نکلا۔اس شاپنگ مال کے کل چار فلور تھے پہلے فلور پر ڈیپارٹمنٹل سٹور تھا دوسرے پر الیکٹرانکس و کھلونوں کی دکانیں اور تیسرے پر فوڈ کورٹ جبکہ آخری پر گارمنٹس و کاسمیٹکس کی دکانیں بنائی گئی تھیں۔فجی میں زیادہ تر مارکیٹیں رات نو بجے بند کردی جاتی ہیں۔ڈیپارٹمنٹل سٹور سے ہی کرنسی تبدیل کروائی اور ایک حلال بنگلہ دیشی ریستوران سے کھانا کھانے کے بعد ہوٹل میں آکر سو گیا۔

اگلے روز ہوٹل سے ایک گلی چھوڑ کر دنیا میں روز سب سے پہلے چھپنے والے انگلش اخبار فجی ٹائمز کا دفتر تھا ۔یہ اخبار04ستمبر1869 ء میں جارج لٹل ٹن نے شروع کیا تھا اور اب اس کے مالک ایک انڈین فجین مہندرا موتی بھائی پاٹیل ہیں۔ اس اخبار کی سرکولیشن فجی میں سب سے زیادہ ہے۔میں نے اخبار کے دفتر میں جاکر اپنا بطور پاکستانی صحافی تعارف کروایا تو عملے نے بڑے خلوص کے ساتھ استقبال کیا اور پڑھنے کیلئے اخبار کی اعزازی کاپی بھی فراہم کی۔کافی کے مگ کے ساتھ طویل نشست کے بعد میں نے اجازت طلب کی اور فجی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے دفتر چلا گیا جو قریب ہی واقع تھا۔فجی براڈکاسٹنگ کارپوریشن بھی برطانوی راج کے وقت سے کام کررہی ہے جس میں خبر رساں ایجنسی،ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے شعبے کام کر رہے ہیں۔فجی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کا دورہ بھی میری معلومات میں اضافے کے حوالے سے بہت کامیاب رہا ۔ میں نے وناکا(شکریہ) کہہ کر اجازت طلب کی۔رات کے تقریباًآٹھ بج چکے تھے،تھکاوٹ سے چور بدن کو آرام کی ضرورت تھی واپس آکر ہوٹل میں سوگیا۔

اگلے روز جب آنکھ کھلی تو دن کے گیارہ بج چکے تھے ۔آج فجی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے عقب میں واقع میوزیم کو وزٹ کرنے کی ٹھانی اور ہوٹل سے اعزازی ناشتہ کرنے کے بعد سووا میوزیم پہنچ گیا۔یہاں پر قدیم فجین کلچر سے متعلقہ اشیاء کو بڑے سلیقے کے ساتھ رکھا گیا ہے۔فجی میں لوکل فیجین لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہزاروں سال قبل افریقہ سے یہاں پہنچے تھے۔اس ضمن میں ان کا لباس اور زبان کے افریقیوں سے ساتھ ملتے جلتے الفاظ بطور شہادت قبول کئے جاسکتے ہیں۔میوزیم میں روایتی شکار کے آلات سے لیکر ہڈیوں اور پتھروں سے بنے جنگی اوزار بھی موجود تھے۔کینوبولزم سے متعلقہ تاریخ جو میرے لئے صرف مفروضہ تھی بارے بھی یہاں لٹریچر موجودتھا۔گویا ثابت ہوا کہ فجین تاریخ میں انسانی گوشت کھانے کے رسیا تھے تو ایک بار پھر میرے دل میں خود کو کسی آدم خور فجین کے ہاتھوں شکار ہونے کا ڈر جاگ گیا ۔اس وہم کو دماغ سے نکالنے کیلئے مجھے وقت چائیے تھا۔میوزیم سے نکلنے کے بعد اپنے ہوش و حواس کو بحال کرنے کیلئے چند قدموں پر موجود البرٹ پارک میں چلا گیا اور رات گئے تک وہاں سیر کی اور واپس ہوٹل آکر سو گیا۔

صبح سویرے ناشتہ کرنے کے بعد سیر کو نکلنے کا پروگرام بنا۔آج ساحل سمندر اور تاپوسٹی وزٹ کرنے کا ارادہ تھا۔ساحل سمندر کے واکنگ ٹریک پر ٹھنڈی ہوا کے ساتھ بارش کی ہلکی بوندوں نے ماحول کو اور خوبصورت بنا دیا تھا۔جوگنگ کرتے ہوئے سمندر کی لہروں کی سنسناہٹ کا منظر بہت رومانوی تھا۔بادلوں کی اوٹ سے سے نیلے آسمان کی جھلکیاں گویا ایسے تھیں جیسے کوئی حسینہ اپنے دوپٹے کے پلو سے اٹکھیلیاں کر رہی ہو۔تین چار گھنٹے کے بعد لنچ اور شاپنگ کیلئے تاپوسٹی شاپنگ مال چلا آیا۔بہترین خوشبو میری کمزوری ہے کھانا کھانے کے بعد پرفیومز کی کولیکشن دیکھنے کیلئے ایک شاپ پر رکا تو وہاں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے بزنس مین اور نہایت شفیق شخصیت حافظ شفیق امین صاحب سے ملاقات ہوگئی۔جنہیں میں نے حسب عادت ایک مخصوص برانڈ کا پرفیوم خریدنے کیلئے مشورہ دیا ۔اسی دوران ان سے بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا تو ساتھ والی شاپ پر محسن صاحب جن کا تعلق لاہور سے تھا وہ اپنے امریکی پارٹنر سٹیفن کے ہمراہ وہاں موجود تھے نے ہمیں آپس میں باتیں کرتے ہوئے حال چال پوچھا ۔ویسے بڑا عجیب اتفاق تھا کہ بیک وقت میری دو پاکستانیوں سے ملاقات ہوگئی ورنہ میں گزشتہ چندروز سے اکیلا ہی گھوم پھر رہا تھا۔ حافظ شفیق امین صاحب خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار مخیر انسان ہیں انہوں نے اپنے والد کی طرف سے ملنے والی جائیداد کو بیچ کر اواگت جڑانوالہ روڈ فیصل آباد کے قریب مستحق افراد میں ساڑھے تین سو گھر بنا کرمفت تقسیم کئے ہیں۔اس کے علاوہ بھی وہ پاکستان میں کئی ایک فلاحی کاموں میں میں پیش پیش ہیں۔حافظ صاحب اپنے دوست خضر صاحب کرسٹل گلاس کے مالک کے ہمراہ فجی میں سیروسیاحت اور کاروباری دورہ پر تھے۔ جبکہ محسن صاحب فجی میں امریکی پارٹنر سٹیفن کے ساتھ ملکر ایک آئی ٹی کمپنی چلا رہے ہیں ۔ان کی کمپنی کے دفاتریورپ ،امریکہ اور دبئی سمیت کئی دیگر ممالک میں بھی کام کررہے ہیں۔محسن ان دو پاکستانی طالب علموں میں سے ایک ہیں جنہوں نے 2006 ء میں پہلا پاکستانی روبوٹ بنانے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ماضی کے ذہین طالب علم اورحال کے کامیاب بزنس مین سے میری ملاقات بلاشبہ میرے لئے باعث اعزاز تھی۔میرے بعد کے دنوں میں وہاں قیام کے دوران ہم تینوں کی ملاقات اور ڈنر معمول تھا اور بلاشبہ ان دو حضرات کی وجہ سے میرا بقیہ ایام کا قیام نہایت خوشگوار اور یادگار بن گیا۔ مجھے آج بھی حافظ صاحب اور محسن بھائی سے اچھی دوستی پر فخر ہے۔شام کو ساحل سمندر پر واقع ہولی ڈے ان ہوٹل کی بالکونی میں محسن بھائی نے کافی آرڈر کی جسے نوش کرتے کرتے کئی گھنٹوں پر مشتمل خوش گپیوں کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا اور واپس ہوٹل میں آکر سو گیا۔

فجی میں روڈز اور دیگر انفراسٹرکچر کی حالت اتنی اچھی نہیں ہے ۔سووا سے ناندی جانے والے سڑک بھی تنگ ہے اور ٹریفک جام کا مسئلہ بھی اکثر رہتا ہے۔روڈز کی بری حالت شاید معمول کی بارش ہو کیونکہ بارش کی وجہ سے روڈز کی تعمیر ممکن نہیں ہوتی۔انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے کئی چائینیز کمپنیوں کو ٹھیکے مل چکے ہیں شاید چند سالوں میں ان مسائل سے چھٹکارا حاصل ہوجائے۔لگ بھگ ایک سو سال کے گزرنے کے با وجودفجی میں ہندوستان سے آئے ہوئے مسلمانوں اور ہندؤں نے آج بھی اپنے مذہب اور کلچر کو زندہ رکھا ہوا ہے۔وہاں اب بھی سکولوں میں باقاعدہ ہندی(اردو) پڑھائی جاتی ہے اور یہ لوگ آپس میں اردو میں ہی بات چیت کو ترجیح دیتے ہیں۔خواتین ساڑھی اور مرد قمیض شلوار پہنتے ہیں،یہ لوگ خوش مزاج ہیں اور شادی و دیگر مذہبی و ثقافتی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کرتے ہیں۔یہ لوگپر جوش، زندہ دل اور انتہائی ملنسار ہیں ۔مختلف اوقات میں میری پری وندھانا، سورن راوندرا،آکیسی راوائے،راتو سر،ڈیلا پراسائے،ایاز خان اور کئی دیگر انڈین فجین سے ملاقاتیں ہوئیں جو دوستی میں بدل گئیں۔ سووا میں میری زندگی کے چند ایام کا قیام میرے لئے ناقابل فراموش اثاثہ ہیں۔میری اگلی تحریر سنگاپور کے وزٹ بارے ہوگی۔شکریہ

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
13 Nov, 2017 Total Views: 95 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Asrar Ahmed

Read More Articles by Asrar Ahmed: 8 Articles with 2006 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB