مومن کی بہترین صفات : غصہ کو پی جانا اور معاف کردینا

(Hafiz Hashim, India)

اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق میں انسان کو اشرف المخلوقات ہو نے کا شرف ملا۔لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِ نْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِ یْم (القر آن ،سورہ التین۹۵،آیت۴)ترجمہ:بیشک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنا یا۔(کنزالایمان)مو لائے رحیم نے موت و زندگی اس لئے عطا فرمائی کہ وہ انسانوں کو آزمائے کہ کس کے اعمال اچھے ہیں جن انسا نوں کواللہ نے ایمان کی دولت سے نوازا ان کی قسمت ،عزت ،وقار کے کیا کہنے رب العزت فر مارہا ہے۔(القرآن،سورہ المنا فقون۶۳،آیت۸)تر جمہ:اور عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے لیے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں۔(کنزلایمان ا)

ایمان والوں کو عزت سے سر فراز کیااور انسانوں کو بھی عزت بخشی فرمایا۔تر جمہ:اور بیشک ہم نے اولاد آدم کو عزت دی اور ان کو خشکی اور تری میں سوار کیااور ان کو ستھری چیز یں روزی دی اور ان کو اپنی بہت مخلوق سے افضل کیا۔ (القرآن،سورہ بنی اسر ائیل۱۷،آیت۷۰)اللہ رب العزت نے جہاں انسانوں کی خوبیاں بیان فرمائیں وہیں انسانوں میں جو متقین مومنین ہیں انکی پہچان بتائی انکی خو بیاں بھی بیان فرمائیں اور ان پر جو انعامات کی بارشیں فرما ئے گا اس کا بھی اعلان فر مایا۔اللہ نے انسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا اور زندگی کے ہر قدم پر ہر حال میں خدائی قانون کی پا بندی کا حکم بھی دیا تاکہ انسان کا ہر فعل اس طریقہ کے مطابق ہو جو خدائے تعا لیٰ نے بتایا ہے اس کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کریں گے تو پوری کی پوری زندگی عبادت ہو گی۔کھا نا ،پینا، سونا، جاگنا ، معا ملات میں خدا کے حکم کی پا بندی کرنا سب کا سب عبادت میں شمار ہوگا۔ خاص کر معاشرتی زندگی میں جو بھی معاملہ درپیش آئے اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے پر اللہ کی فرماں برداری کا انعام بھی ملے گا ۔اللہ نے انعام کا اعلان بھی فرمایا اور یہ بھی بتایاکہ یہ انعام کن لوگوں کو عطا کیا جائے گا۔وَاَطِیْعُوااللَّہَ وَالرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْ حَمُوْن ۔ وَسَا رِعِوْٓ ا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّ بِّکُمْ وَ جَنَّۃٍ عَرْ ضُھَاالسَّمٰوٰ تُ وَالْاَرْضُ اُ عِدَّتْ لِلّمُتَّقِیْنَ الَّذِیْنَ۔۔۔۔۔۔ اَلخْ تر جمہ :اور اللہ کی اور رسول( ﷺ)کی فرماں برداری کر تے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔اور اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف تیزی سے بڑھو جس کی وسعت (چوڑائی،Sapce) میں آسمان اور زمین آجاتے ہیں،جو پر ہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو فراخی اور تنگی(دونوں حا لتوں) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ پینے وا لے اورلوگوں سے درگز رکرنے والے ، اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔(القرآن،سورہ آل عمران۳، آیت ۱۳۴۔۱۳۲،کنزالایمان)اللہ رب العزت یہاں متقین مومنین کی صفات کردار (character) بیان فرمارہا ہے جن کے لیے جنت کی بہاریں چشم براہ (انتظار میں بے قرار ہیں) انکی پہلی صفت (quality) یہ ہے کہ وہ خوش حالی میں اورتنگ دستی، مالی محتا جی میں اپناعزیز مال اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ایسا کر نا کمال تقویٰ کی وا ضع علا مت ہے۔اس صفت کو سب سے پہلے ذکرکیاگیا کیو نکہ اس میں صدقہ ہے اپنا مال دوسرے کو دینا ہے کظم غیظ مومن کی دوسری صفت ہے۔غیظ(شدید غصہ)شدت غضب کواور کظم کوبھری ہوئی مشک کے باندھنے کو کہتے ہیں کبھی کبھی ایسے نا پسندیدہ کام یابات ہو جاتی ہے جس سے انسان بہت زیادہ غصہ ہو جاتا ہے۔ ایسے حال میں اپنے غصہ کو پی جانا بے شک بڑی ہمت کا کام ہے۔حدیث پاک کی روایتوں میں ہے اللہ رب العزت فرماتا’’اے ابن آدم! اگر غصے کے وقت تو مجھے یادرکھے گا یعنی میرا حکم ما ن کر غصہ پی جائے گا تو میں بھی اپنے غصے کے وقت تجھے یاد رکھوں گا یعنی ہلاکت کے وقت تجھے ہلا کت سے بچالوں گا(ابن ابی حاتم)دوسری حدیث میں ہے رسو ل اللہ ﷺ نے فرما یا ’’جوشخص اپنا غصہ روک لے اللہ تعالیٰ اس پر سے اپنا عذاب ہٹالیتا ہے اور جو شخص اپنی زبان(خلاف شرع باتوں سے) روک لے اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف معذرت لے جائے گا اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول کرے گا ۔(مسند ابو یعلی) مومن کی تیسری صفت اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ’’عفو‘‘(معاف کرنا درگزرکرنا)عفو کہتے ہیں با وجود طا قت(power) کے کسی انسان کی خطااورنقصان پہچا نے پر خا موش ہی نہ رہے بلکہ دل سے اسے معاف کردے ۔ھُوَا لتجا فی عن ذنب مع القدرۃ علیہ ۔

اللہ رب العزت کا فرمان ہے ۔ ترجمہ:اور بیشک جس نے صبر کیا اوربخش دیا تو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں۔(القر آن،سورہ شوریٰ۴۲،آیت۴۳) کنز ا لا یمان۔ چو تھی صفت احسان ہے۔یہ مرتبہ پہلے تمام مرا تب سے بلند تر ہے کہ انسان دشمن سے بدلہ بھی نہ لے ،اسے معاف بھی کردے صرف معاف ہی نہ کرے بلکہ اس پر احسان ( مہربانی کا برتاؤ، اچھاسلوک) بھی کرے۔ مومن کی پانچویں صفت طلب مغفرت ہے ۔ انسان خطا و نسیان کا مجمو عہ ہے اس سے گناہ سرزد ہو جائے تو فو رًا احسا س ندامت سے جھک جائے اور یہ جانتے ہو ئے کہ غلطیوں کو معاف فرمانے والااور گناہوں کو بخشنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔تر جمہ: مگر وہ جو تو بہ کریں اور ظاہر کریں تو میں ان کی تو بہ قبول فرماؤں گا اور میں ہی ہوں بڑا تو بہ قبول فرمانے والا مہربان۔( القر آن،سورہ البقر ۲،آیت۱۶۰،کنزالایمان) جو اللہ کے حضور میں نہایت عاجزی سے گناہوں کی معافی کی درخواست کرتے ہیں ان کی یہ حقیقی،اصل(Real) توبہ ہوتی ہے ایسا نہیں ہو تاکہ ان کی زبان تو استغفراللہ کے وِرد میں مصروف ہو اور وہ اپنے عمل سے استغفار کا مذاق اڑا رہے ہوں۔آج ہمارے معاشرے میں درگذر کر نے ،معاف کرنے کی عادت تقر یباًختم ہوتی جارہی ہے ذراذرا سی بات پر غصہ ہونا اور کہنا ہم اسے زندگی بھر معاف نہیں کریں گے بات نہیں کریں گے عام سی بات ہوگئی ہے افسوس اور تشویش اس پر ہے کہ اس میں خواص بھی شا مل ہیں(چند کوچھوڑکر)علمائے کرام، پیران عظام کے چہروں پر تیوریاں چڑھی رہتی ہیں اور اپنے مخالفین پر برسر عام اسٹیجوں پربھی لعن طعن کر تے رہتے ہیں عوام پر اس کا غلط اثر ہو رہا ہے۔ معا فی اور درگز سے کام نہیں لیتے جب کہ اپنے معاملے میں چا ہتے ہیں اللہ انہیں معاف فرمادے ،اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے ۔ ترجمہ:اور قسم نہ کھائیں وہ جو تم میں فضیلت والے ہیں اور گنجائش والے ہیں قرا بت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے کی،اور چاہئے کہ معاف کریں اور درگزر کریں، کیا تم اسے دوست نہیں رکھتے کہ اللہ تمھاری بخشش کرے،اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔(القر آن،سورہ النور ۲۴،آیت۲۲) اللہ تعالیٰ سے سبھی چاہتے ہیں کی وہ ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو معاف فرمادے،اور وہ رحیم وکریم معاف فرماتاہے لیکن جو مومن بندوں کی صفات اللہ نے بیان فرمائی غصہ کو پی جانے والے(وہ خوبی) اپنے اندر نہیں پیدا کرتے ذرا سینے میں ہاتھ رکھ کر سو چیں ہم کہاں ہیں۔اپنے مجرم کو معاف کرنا،ظالم کو معاف کرنا کسی نے گالی دی اسے معاف کردینا،کسی نے مارا اسے بخش دیا حالانکہ نفس بدلہ لینے کا تقاضا کرتا ہے(اسکے ساتھ نیکی کا عمل کرا،اچھا سلوک کرنا، مہربانی کا بر تاؤ کرنا)یہ بہت دل وجگر کا کام ہے اسے مارنا بہادری ہے لیکن اسے معاف کردینا نفس کو مغلوب کردینا سب سے بڑی بہادری ہے ہزا روں دین کے دشمنوں کو مارنا آسان ہے نفس امارہ کو مارنا بہت مشکل ہے نفس گنا ہوں پر امادہ کر نے والا،بہت حکم کر نے والاہے و لیکن اس کے برعکس دشمن کے ساتھ نیکی کا عمل کرنا،اچھا سلوک کرنا، مہربانی کا برتاؤ کرنا،یہ بہت ہمت کے کام ہیں اللہ تما م مسلمانوں کو اپنے اندر یہ صفت پیدا کرنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔
——

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
13 Nov, 2017 Total Views: 116 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Mohammad Hashim Quadri Misbahi

Read More Articles by Mohammad Hashim Quadri Misbahi: 120 Articles with 39350 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB