باپ جنت کا دروازہ ہے

(Hafiz Abdul Basit Rehmani, )

صاحب! ''مجھے تین سو روپے کی ضرورت ہے''
یہ الفاظ تھے ایک بوڑھے والد کے، جو ملتجیانہ نظروں سے اپنے جوان بیٹے کو دیکھ رہا تھا۔
’’اب پھر کیا کرنا ہے پیسوں کا؟
جب دیکھو پیسے مانگتے رہتے ہو، کمانا کوئی آسان کام ہے‘‘۔
بیٹے نے کرخت لہجے میں پوچھا۔
لہجے کی تلخی سے دل دہل کر رہ گیا۔وہ کھا جانے والی نظروں سے باپ کو دیکھ رہا تھا۔
باپ کی نگاہیں بیٹے کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔وہ حیرت کا بت بنے بیٹھا ہوا تھا۔ شاید اسے دوا خریدنا تھی۔
میری وہاں موجودگی اس کے لیے مزید شرمندگی کا باعث بن رہی تھی۔
جس بیٹے کے لئے زندگی کے قیمتی ماہ و سال محنت، مزدوری میں کھپا دیے، جس کی آسائش و آرائش، تعلیم و تربیت کے لیے اپنی توانائیاں صرف کیں، جس کے کل کے لیے اپنا آج قربان کیا۔ جس کی جوانی و رعنائی کو دیکھ کر بوڑھا باپ خوش ہو کر امیدوں کا شیش محل بنا لیتا ہے۔ آج وہ محل دھڑام سے گر کر کرچی کرچی ہوگیا تھا۔
بیٹے کا کرخت لہجہ باپ کے دل کو سیپارہ کرگیا۔ بوڑھا باپ آخر کرہی کیا سکتا تھا۔ خاموشی سے سرجھکا کر بیٹھ گیا۔

حسرت و یاس سے بھرپور چہرہ دیکھ کر آقائے دوجہاں صلی اﷲ علیہ وسلم کی پاکیزہ محفل کا وہ منظر یاد آگیا، جو امام قرطبی رحمۃ اﷲ علیہ نے اپنی مشہور تفسیر الجامع لاحکام القرآن میں نقل کیا ہے۔

ایک نوجوان پیارے پیغمبرصلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ میرے باپ نے میرا مال لے لیا ہے۔
آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جاؤ اپنے والد کو بلا کر لاؤ‘‘۔
اُدھر وہ بلانے گیا، اِدھر جبرئیل امین تشریف لائے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کی۔۔۔
آقا! جب اس نوجوان کا باپ آجائے تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اس سے پوچھیے گا کہ، وہ کون سے کلمات ہیں، جو اس نے دل میں کہے ہیں؟ اور ایسے کہے ہیں کہ خود اس کے کانوں نے بھی انہیں نہیں سنا۔
جب یہ نوجوان اپنے والد کو لے کر محفل میں حاضر ہوا، تو حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے والد سے کہا، ’’کیا معاملہ ہے؟آپ کا بیٹا آپ کی شکایت کرتا ہے، کیا آپ اس سے اس کا مال چھیننا چاہتے ہیں؟
والد نے عرض کی، ’’آقا! آپ یہی سوال اسی سے پوچھیے، کہ میں اس کے مال میں سے اس کی پھوپھی، خالہ یا اپنی ذات کے سوا کہاں خرچ کرتا ہوں‘‘؟
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے تسلیم کرتے ہوئے فرمایا، ’’اب حقیقت واضح ہو چکی ہے، لہذا اب مزید کچھ کہنے، سننے کی ضرورت نہیں‘‘۔
اس کے بعد حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ وہ کون سے کلمات ہیں، جو تو نے دل میں کہے ہیں، جن کو ابھی تیرے کانوں نے بھی نہیں سنا۔
اس شخص نے عرض کی، ’’یارسول اﷲ! اﷲ ہر معاملے میں ہمارا آپ پر ایمان و یقین بڑھا دیتے ہیں یعنی جو بات کسی نے نہیں سنی، حتی کہ اپنے کانوں نے بھی نہیں سنی، اس کی آپ کو معجزانہ طور پر اطلاع ہوگئی۔
پھر اس نے اپنی بات شروع کی، کہنے لگا،’’یہ ایک حقیقت ہے کہ میں نے چند اشعار دل ہی دل میں کہے تھے، جن کو میرے کانوں نے بھی نہیں سنا‘‘۔
آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا،’’وہ اشعار ہمیں بھی سناؤ‘‘۔
اس نے اشعار سنانا شروع کیے، اصل لطف تو عربی میں ہی ہے، لیکن یہاں ان کا اردو میں مفہوم نقل کیے دیتا ہوں۔

میں نے تجھے بچپن میں غذا دی اور جوان ہونے کے بعد بھی تمہاری ذمہ داری اٹھائی، تمہارا کھانا پینا سب میری ہی کمائی سے تھا۔
جب کسی رات میں تمہیں کوئی بیماری درپیش ہوئی، تو تمہاری بیماری کی وجہ سے میں نے تمام رات بیقراری اور بیداری میں گزاری۔
یوں لگتا جیسے گویا تمہاری بیماری تمہیں نہیں، مجھے لگی ہے، اور میری آنکھیں برستی رہیں۔
میرا دل ہمہ وقت تمہاری ہلاکت سے ڈرتا رہا، باوجودیکہ مجھے یہ معلوم تھا کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے۔
پھر جب تم عمر کے اس حصے اور حد تک پہنچ گئے، جس کی مجھے تجھ سے تمنا رہتی تھی۔
تو تم نے میری محنتوں کا صلہ سختی اور سخت کلامی بنا دیا، گویا صرف تم ہی مجھ پر احسان و انعام کررہے ہو۔
کاش! تم سے اگر میرے باپ ہونے کا حق ادا نہیں ہو سکتا تھا، تو کم از کم ایسا ہی کرلیتے، جیسا ایک شریف پڑوسی سلوک کیا کرتا ہے۔
تو کم از کم مجھے پڑوسی کا حق تو دے دیا ہوتا اور خود میرے ہی مال میں سے میرے حق میں بخل سے کام نہ لیا ہوتا۔

باپ کے اشعار سننے کے بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بیٹے کا گریبان پکڑ لیا اور فرمایا،
’’اَنْتَ وَ مَالُکَ لِاَبِیک(تو بھی اور تیرا مال بھی سب تیرے باپ کا ہے)

یہ واقعہ سبق ہے نوجوان نسل کے لیے، جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے بوڑھے باپ نے ہمارے لیے کیا کیا۔ اولاد جوان ہونے کے بعد باپ کی محنت و مشقت اور مہربانیاں بھول جاتی ہے۔ جوان بیٹا ہاتھ آئی دولت پر اپنا حق یوں جتلاتا ہے، جیسے صرف اسی کے خون پسینے کی کمائی ہے۔
حالانکہ اسے یہ یاد نہیں رہتا کہ جس مال و دولت پر ناز کرتا ہے، اس کا نقطہ آغاز اس کا بوڑھا باپ ہے۔
جب اسے کسی کے سہارے اور تعاون کی ضرورت تھی، تو یہی باپ اس کا بیلوث اور بے غرض سہارا تھا۔
اب بڑھاپے میں باپ کو بھی سہارے اور تعاون کی ضرورت ہے، اور پیغمبر اعظم صلی اﷲ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق کہ ’’باپ جنت کا دروازہ ہے‘‘۔
تو نوجوان بھی بے لوث اور بے غرض سہارا بن کر اپنے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی کے در وا کرا سکتا ہے۔
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
13 Nov, 2017 Total Views: 144 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Hafiz Abdul Basit Rehmani


Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB