میں سلمان ہوں(١٠٩)

(Hukhan, karachi)

کر کے خود کو تنہا ہم شاد ہوئے
تیرے بزم میں آکر برباد ہوئے
ہر زخم سہہ کر بھی مسکرا دئیے
تیری یادوں کے سارے دیے اب بجھا دئیے

جانے اب یہ وقت کہاں لے جائے
ملتی ہے دھوپ یا شام کے سائے
جانے کب تک سونا ہے چادر دکھوں کی اوڑھ کے
ایسی بھی کیا قسمت لکھوا کے لائے
ترس گئے لب جانے کب تھے مسکرائے

سلمان نے قلم رکھ کر آنکھیں موند لیں،،،مجھے کل جلدی جانا ہے،،،پھر سے
لباس جوتے پر اک نظر ڈالی،،،کچھ دنوں سے اس کے اندر باہر کے حالات کافی
بہتر ہوگئے تھے،،،تن پر کپڑے اور پیٹ میں گندم دونوں تھے،،،
پاؤں بھی اچھے جوتوں کی آغوش میں چلے جاتے تھے،،،وہ اپنی غربت کو لباس
میں سمیٹنے میں کامیاب ہونا شروع ہوگیا تھا،،،

سلمان نے اپنی پرانی سی گھڑی میں ٹائم دیکھا،،،اور اس کو اتار کراپاہج سے ٹیبل
پر رکھ دیا،،،موسم گرم ہونے لگا تھا،،،اسے گرمی پسند نہ تھی،،،
سردی پھر بھی اچھی ہے،،،کمبل نیا ہو یا پرانہ سب کو عزت دیتی ہے،،،کمبل کے
اندر گھسنے کی کوشش نہیں کرتی،،،سردی لوگوں کی ذاتی زندگی میں ذیادہ جھانکنے
کی کوشش نہیں کرتی،،،

دروازے پر مانوس سا کھٹکا ہوا،،،ندا سیدھا اندر،،،سلمان نے فوراَ آنکھیں بند کرلیں،،
ندا بولی،،،اوہو یہ تو سو گیا،،،چائے کا کیا کروں؟؟،،،،!!
سلمان نے فورا آنکھیں کھول دیں،،،نہیں نہیں،،،میں جاگ رہا ہوں،،،
ندا نے مصنوعی حیرت سے کہا،،،اچھا،،،سلمان نے ندا کے خالی ہاتھ دیکھے،،،تو
ناراضگی سے کہا،،،جھوٹ،،،
ندا جھٹ سے بولی،،،جی تم جھوٹا سوسکتے ہو،،،میں خالی چائے نہیں بنا سکتی،،،

سلمان نے ناراض سے لہجے میں کہا،،،وہ پلاؤ ہوتا ہے،،،محترمہ ندا صاحبہ،،،
ندا ہنس کے بولی،،،چلو اچھا ہے اسی بہانے مجھے اتنی عزت دے رہے ہو،،،
ورنہ عجیب،،،کھڑوس انسان ہو،،،بلکہ،،،
سلمان نے فوراَ کہا،،،بس بس کچھ آئندہ کے لیے بھی چھوڑ دو،،،میں کہاں
بھاگا جارہا ہوں،،،کہتی رہنا،،،تم نے کونسا مجھے معاف کر دینا ہے،،،

ندا نے لاڈ سے کہا،،،آپ نے معافی مانگی ہی کب ہے،،،کم سے کم میں عمر
میں بڑی ہوں،،،میرا دل رکھنے کے لیے ہی سوری کہہ دیتے،،،میں بزرگ بن کے
فورا معاف کر دیتی،،،
میں نے ایسا کیاکیا؟؟،،،سلمان کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ندا بولی،،،
اچھاکچھ نہیں کیا؟،،،
سلمان نے سوالیہ انداز میں ندا کو دیکھا،،،کئی بار رینٹ ہی نہیں دیا اور کئی
بار لیٹ دیا،،،
سلمان نے ناک سکیڑ کرکہا،،،آخر نکلی نہ سیٹھ کی بیٹی،،،مالکہ مکان،،،

ندا نے جواب میں خود کو اکڑا کر کہا،،،کوئی شک؟؟؟،،،،!! مسٹر سلمان!،،،
سلمان معصوم بن کر بولا،،،اک چائے کا کپ انسان کو کتنا گرا دیتا ہے،،،
ندا مزے لے کر بولی،،،ویسے وہ تمہیں چھوڑے گی نہیں،،،سلمان نے چونک کر
کہا،،،کون؟،،،(جاری)
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
08 Nov, 2017 Total Views: 513 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 805 Articles with 308905 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Very Nice,,,,,,,
By: Mini, mandi bhauddin on Nov, 09 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Nov, 09 2017
0 Like
nice poetry bhai
By: rahi, karachi on Nov, 08 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Nov, 08 2017
0 Like
v nice and good words
By: sohail memon, karachi on Nov, 08 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Nov, 08 2017
0 Like
out standing romantic comedy you have very good command Mr khan
By: khalid, karachi on Nov, 08 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Nov, 08 2017
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB