الوداع

(Arif Kisana, Sweden)

کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص کسی ایسے ملک میں جائے جہاں اس کا کوئی جاننے والا نہ ہو لیکن تھوڑی ہی مدت کے بعد جب اس کی وہاں سے واپسی ہو تو ہر ایک محبت و احترام اور افسردہ دل کے ساتھ رخصت کرے۔ کوئی اتنی جلدی لوگوں کے دلوں میں کیسے گھر کرکے ہر دل عزیز بن سکتا ہے۔معلوم نہیں کہیں ایسا ہوا ہے یا نہیں لیکن سویڈن میں یہ امر واقع ہوا ہے اور وہاں رہنے والے پاکستانی اداس ہیں کیونکہ ان کے محبوب سفیر جناب محمد طارق ضمیر سویڈن میں اپنا دور سفارت مکمل ہونے کے بعد وطن واپس چلے گئے ہیں۔ہرکوئی یہی کہتا ہے کہ ان جیسا اعلی اخلاق و اوصاف کا حامل انسان دوست سفیر پہلے کبھی نہیں دیکھا ۔ وہ سب سے محبت و احترام سے پیش آتے اور کہیں بھی اگر کوئی واقعہ ہوا یا نماز جنازہ، محض ایک ایس ایم ایس ملا اور وہ شرکت کے لئے پہنچ جاتے تھے۔ اگر کسی نے اپنے گھر بلانا چاہا تو اس کا مان رکھا اور اپنی فیملی کے ساتھ شرکت کی چاہے کوئی چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں ہی کیوں نہ رہتا تھا۔ان کی اہلیہ اور بچے بھی اعلیٰ اخلاق و اطوار کے حامل ہیں۔ وہ اپنے چھوٹے عملہ کے ساتھ بھی بہت اخلاق سے پیش آتے تھے۔نمود ونمائش سے کوسوں دور بھاگتے اور اپنے ذکر و ستائش سے ہمیشہ منع کرتے تھے۔ بائیسویں گریڈ کے یہ افسر اخلاق اور کردار کے اعلی ترین گریڈ پر فائیز ہیں اسی لئے تو لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا کہیں اور بھی ایسا کوئی سفیر ہے۔

وہ ایک بہترین سفارت کار ہیں اورانہوں نے نیپال، امریکہ ، اٹلی اور سویڈن میں اپنے فرائض سرنجام دیئے۔ اٹلی کے شہر میلان میں وہ چھ سال قونصلر جنرل کی حیثیت سے تعینات تھے اور اس دوران انہوں نے وہاں مشہور مستشرق ڈاکٹر ویتو سلیرنو سے بہت قریبی رابطہ رکھا۔ڈاکٹر ویتو کوپاکستان، اردوادب اور علامہ اقبال سے بہت انس تھا۔ وہ اٹلی کی وزارت خارجہ سے منسلک رہے اور اس دروان پاکستان بھی تعینات رہے۔ وہ بہت سی کتابوں کے مصنف تھے اور ان کا سب سے بڑا کارنامہ کلام اقبال کا اطالوی زبان میں ترجمہ ہے۔ حکومت پاکستان نے انہیں اقبا ل فاؤنڈیشن یورپ کا سربراہ مقرر کیا اور انہیں ستارہ قائد اعظم سے بھی نوازا گیا۔طارق ضمیر نے میلان میں مئی 2012میں ہونے والی عالمی اقبال کانفرس کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا ۔ طارق ضمیر اور ان کی اہلیہ بھابھی منیزہ طارق نے ڈاکٹر ویتو صاحب کی کئی کتابوں جن میں Pakistan with love ، Fascism and British India ، Dictionary of Islam Italian Version شامل ہیں کی اشاعت کے اہم مراحل میں بہت تعاو ن کیا جن میں ترجمہ اورترامیم کرنا شامل ہیں۔ بچوں کے لئے میری کتاب سبق آموز کہانیاں جو نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد سے شائع ہوئی اس میں ان کی رہنمائی شامل رہی۔ جب یہ کتاب شائع ہوگئی تو یورپ میں والدین اور بچوں کی خوہش تھی کہ اسے انگریزی زبان میں شائع کیا جائے۔ بھابی منیزہ طارق نے انگریزی میں ترجمہ کرنے کی پیش کش کی اور چند دنوں میں ایسا خوبصورت ترجمہ کیا جسے بہت سراہا گیا ۔ اس ترجمہ نے دیگر زبانوں میں اشاعت کے دروازے کھول دیئے اور اب یہ عربی ، ہندی اور نارویجین میں شائع ہوچکی ہے جبکہ بہت سی زبانوں میں ترجمہ ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔

سفیر پاکستان طارق ضمیر اپنے تین سالہ دور سفارت میں پاکستانی کمیونٹی کے ہر پروگرام میں شرکت کرتے تھے اور اس میں حوالے سے ان کی دو اہم خصوصیات تھیں۔ وہ پابندی وقت کے ساتھ تقریب میں تشریف لاتے اور آج تک کسی ایک تقریب میں بھی وہ تاخیر سے نہ پہنچے اور دوسری اہم بات یہ کہ وہ تقریب میں پورا وقت شریک رہتے اور یہ نہیں کہ تھوڑی دیر بیٹھ کر چلے جاتے۔ ان تقریبات میں اکثر ان کی اہلیہ اور بچے بھی شریک ہوتے تھے۔ سویڈن میں ان کی ا ہم یادوں میں ایشین اردو سوسائیٹی کے صدر جمیل احسن کی دعوت پر عالمی مشاعرہ میں شرکت اور خطبہ صدارت کو شرکاء کبھی نہیں بھولیں گے جس میں انہوں نے اردو شاعری پر بہت پر مغز اظہار خیال کرنے کے علاوہ مشاعرہ میں شریک ہر شاعر کے کلام پر بہت عمدہ تبصرہ کیا۔ اس یادگار مشاعرہ میں سویڈن کے علاوہ ناروے، ڈنمارک اور برطانیہ سے شعراء شریک ہوئے ۔ انہوں نے میری کتابوں افکار تازہ اور سبق آموز کہانیاں کی تقریب رونمائی کی صدارت کی اور بہت دلنشین خطاب کیا۔ سٹاک ہوم میں پاکستان میلہ کمیٹی سالانہ میلہ منعقد کرتی ہے جس میں وہ ہر سال شریک ہوتے رہے اور ان کی معاونت بھی کرتے تھے۔ ان کا تعاون سالانہ بسنت میلہ کے ساتھ بھی رہا اور وہاں آنے والے شرکاء اس کے گواہ ہیں۔ سویڈن میں پاکستان کی ثقافت اور اردو زبان کے فروغ کے لئے گذشتہ سال شہزاد انصاری کی قیادت میں قائم ہونے والی تنظیم پاکستان انفارمیشن اینڈ کلچرل سوسائیٹی( پکس )کے قیام کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کی اور اس کے تحت ہونے والے تمام سرگرمیوں میں شریک رہے۔ قرآن حکیم کے ساتھ ان کی گہری وابستگی اور وسیع مطالعہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ سٹاک ہوم سٹڈی سرکل کے تحت ماہانہ درس قرآن کی کئی ایک نشستوں میں شریک ہوتے رہے اور سویں نشست کی صدارت کرتے ہوئے قرآن حکیم کے حوالے سے بہت علمی خطبہ صدارت ارشاد فرمایا۔وہ ایک علم دوست شخصیت ہیں اور اس کے فروغ میں مگن رہتے ہیں۔اس خاکسار کو انہوں نے بہت سی کتابیں عنائیت کیں جن میں سید حسین نصر کی ادارت میں شائع ہونے والا قرآن حکیم کا خوبصورت ترجمہ اور مختصر تشریح The Study Qur'an ا ایک ایسا لاجواب تحفہ ہے جس سے زندگی بھر فیض حاصل ہوتا رہے گا۔ڈاکٹر امجد ثاقب کی قیادت میں پاکستان میں غربت اور جہالت کے خلاف برسر پیکارعظیم تحریک اخوت کو سویڈن میں متعارف کرانے کا صالح کام بھی انہی کے حصہ آیا اور اب یہاں کی پاکستانی کمیونیٹی انسانی فلاح و بہبود کے اس عظیم مقصد کے لئے بھر پور تعاون کررہی ہے۔

حسین قدرتی مناظر کو اپنے کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ سویڈن میں پاکستان کے تصور کو بہتر بنانے کے لئے انہوں نے کئی ایک کوششیں کیں جن میں ایک تصویری نمائش کا انعقاد بھی شامل ہے۔ اس نمائش میں پاکستان کے نامور فوٹوگرافروں طارق سیلمانی اور گلریز غوری کی تصاویر کی نمائش کی جسے دیکھنے سویڈش لوگوں کے علاوہ سٹاک ہوم میں مقیم سفارتی نمائندے بھی امڈآئے اور اس طرح ان سب کا پاکستان کی سرزمین اور ثقافت سے تعارف ہوا۔ سویڈن اور فن لینڈ میں پاکستان کی مصنوعات کے فروغ اور بہتر تجارتی مواقع حاصل کرنے کے لئے ان کے دور سفارت میں اہم اقدامات کئے گئے۔ انہوں نے ہر سال ربیع االاول میں حضور اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت کے موقع پر سفارت خانہ میں ہونے والی تقریب کے سلسلہ کو جاری رکھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی بھی اﷲ کے حبیب کا ذکر کرتا ہے خدااسے عزت عطا کرتا ہے۔ اپنے دور سفارت میں سفارت خانہ میں یوم اقبال منانے کا آغاز کیا۔امید ہے کہ نئے آنے والے سفیرمحترم احمد حسین ڈھائیو ان درخشاں روایات کو برقرار رکھیں گے۔ سویڈن اور فن لینڈ کے پاکستانیوں نے مغموم دلوں اور ڈھیروں دعاؤں کے سا تھ سفیر محترم کوا لوداع کیاہے ۔ جناب طارق ضمیر الوداع !

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
28 Oct, 2017 Total Views: 155 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Arif Kisana

Blogger Express Group and Dawn Group of newspapers Pakistan
Columnist and writer
Organiser of Stockholm Study Circle www.ssc.n.nu
Member Foreign Pr
.. View More

Read More Articles by Arif Kisana: 142 Articles with 42800 views »
Reviews & Comments
ان جیسی علمی شخصیت کا ایسی اہم جگہ پر تعینات ہونا خال خال ہی نظر آ تا ہے- میں تو حیران ہوں کہ وہ کونسا میدان ہے جہاں جناب محمد طارق ضمیر صاحب نہیں پہنچے اور اپنی صلاحیتوں سے اپنی شخصیت کا لوہا نہیں منو ایا
آج کے قحط الرجال میں ان صفات کے حامل کم ہوتےجارہے ہیں - ان کی دینی خدمات کا پڑھ کر دنگ رہ گیا -
اللہ تعالیٰ کی جانب سے کئی صلاحیتیں ودیعت کی جاتی ہیں لیکن ان کا استعمال فرد کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے - آپ کے کالم سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے ان صلاحیتوں کا صحیح استعمال کیا اور اپنے سامنے موجود معاشرے پر بدرجہ کمال اثر انداز ہو تے ہوئے افراد کو صحیح خطوط پر گامزن کرتے رہے

یہ جاننا چاہئے کہ ایسی شخصیات جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کی گئی صلاحیتوں سے انسانی سماج اور معاشرے پر بدرجہ کمال اثر انداز ہو رہی ہوں بار بار ہمیں عطا نہیں ہوتیں -

اللہ تعالیٰ اب روشنی پھیلانے انہیں کسی اور مقام پر بھیج رہا ہے - دعا ہے کہ وہاں لوگ ان کی شخصیت سے پورا فیض اٹھانے کی کوشش کریں
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Oct, 30 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB