ہمارے معاشرے میں عام نفسیائی مسائل اور غلط فہمیاں٬ ڈاکٹر اقراﺀ ناز

 

ہمارے مُلک پاکستان میں نفسیاتی مسائل بہت زیادہ ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں۔ تاہم نفسیاتی مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنا بھی کوئی مشکل کام نہیں ہے بس ضرورت اس بات کی ہمارے درمیان درست آگہی موجود ہو کیونکہ ہمارے ہمارے معاشرے میں عام نفسیائی مسائل سے متعلق متعدد غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں- اور انہی غلط فہمیوں کے باعث انسان اپنا نفسیاتی علاج کروانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے- یہ کونسی غلط فہمیاں ہیں اور ان کا حل کیا ہے؟ اس بارے میں دریافت کرنے کے لیے ہماری ویب کی ٹیم نے مشہور ماہرِ نفسیات اقراﺀ ناز سے خصوصی ملاقات کی- اس نشست میں حاصل ہونے والی اہم معلومات قارئین کی نذر ہے:

ڈاکٹر اقراﺀ کہتی ہیں کہ “ ہمارے ہاں نفسیات کی وجہ سے متعدد مسائل پیدا ہوتے ہیں- اس کے علاوہ ہمارے معاشرے میں جو لوگ نفسیاتی علاج کروا رہے ہوتے ہیں ان کے بارے میں کئی باتیں مشہور ہوجاتی ہیں- جیسے کہ وہ پاگل ہیں یا نفسیاتی ہیں- ان پر اس قسم کے الفاظ چسپاں کر دیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ ماہرِ نفسیات کے پاس جانے سے ہچکچاتے ہیں اور انہیں یہ خوف ہوتا ہے کہ اگر کسی نے ماہرِ نفسیات کے پاس جاتے ہوئے دیکھ لیا یا پتہ چل گیا تو لوگ ہمارا مذاق اڑائیں گے٬ طرح طرح کی باتیں بنائیں گے اور ہمارا معاشرے میں اٹھنا بیٹھنا مشکل ہوجائے گا“-
 


“لازمی نہیں ہے کہ جو لوگ ماہرِ نفسیات کے پاس جاتے ہیں وہ نفسیاتی بھی ہوں یا پھر پاگل ہوں- ہر انسان کی شخصیت٬ ماحول دیکھنے کا طریقہ٬ لوگوں سے بات چیت کرنے کا طریقہ اور چیزوں سے ڈیل کرنے کا طریقہ الگ ہوتا ہے- یہی وجہ ہے کہ لازمی نہیں ہے کہ ہر انسان ہر طریقے کے دباؤ کو اسی طرح لے جیسے کہ ہم اور آپ لیتے ہیں- کسی بھی ایک موقع کو لے کر ہر انسان کا ردِ عمل مختلف ہوسکتا ہے“-

“ اگر کوئی شخص کسی موقع یا مسئلے سے نہیں نکل پا رہا تو ظاہری سی بات ہے کہ اسے کسی کی مدد کی ضرورت پڑے گی- اب ہم یہ مدد کسی دوست یا دفتر کے کسی کولیگ سے لیتے ہیں- ایسے میں وہ دوست یا کولیگ ہمارے بارے میں کوئی رائے قائم کر رہا ہوتا ہے- یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ہماری بات صحیح سے نہ سنے یا یہ خوف ہوتا ہے کہ کہیں وہ ہمارے مسئلے کو ہمارے خلاف ہی نہ استعمال کرے؟- ان وجوہات اور ڈر کی بنا پر ہم اکثر اپنے جذبات یا احساسات کی شئیرنگ دوسروں کے ساتھ ختم کردیتے ہیں-

ڈاکٹر اقراﺀ کا کہنا تھا کہ “ اس صورت میں سب سے بہتر یہ ہے کہ آپ کسی ماہرِ نفسیات سے رابطہ کریں تاکہ وہ آپ کے ان مسائل کو بہتر طریقے سے ڈیل کر سکے کیونکہ وہ اس بات کو سمجھے گا کہ آپ کے پاس یہ چیز ماحول میں سے کہاں سے آئی ہے؟ اور وہ اسی اعتبار سے مسئلے کو حل بھی کرے گا“-
 


“ مثال کے طور پر جیسے کسی فلم میں کوئی سازش ہورہی ہوتی ہے اور فلم دیکھنے والوں کی خواہش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح ہیرو کو اس سازش کا علم ہوجائے- اسی طرح ہماری زندگی بھی ایک ڈرامہ یا فلم کی مانند چل رہی ہوتی ہے“-

“ اصل میں انسان کو بعض اوقات اتنے مسائل نے گھیرا ہوا ہوتا ہے کہ اسے ان کا حل نہیں دکھائی دیتا- ایسے میں ماہرِ نفسیات ہی اس کی زندگی سے باہر بیٹھ کر اس کے مسائل٬ جذبات٬ احساسات اور خیالات کا صحیح اندازہ لگا سکتا ہے- ماہرِ نفسیات ان خرابیوں کے بارے میں جان سکتا ہے جو مسائل کو جنم دینے کا سبب بن رہے ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے وہ اپنی زندگی درست طریقے سے نہیں گزار پا رہا ہوتا اور اس کی کئی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہوتی ہیں“-

ڈاکٹر اقراﺀ کہتی ہیں کہ “ ماہرِ نفسیات بہت سی چیزوں پر کام کرتا ہے جیسے کہ ڈپریشن٬ جذبات اور احساسات وغیرہ- اس کے علاوہ ماہرِ نفسیات کیریر کاؤنسلنگ کے حوالے سے بھی اہم کردار ادا کرتا ہے“-

“ مثال کے طور پر یہ بات جاننے میں مشکل پیش آرہی ہے کہ بچہ تعلیم میں کیوں پیچھے ہے؟ یا اسے کن مضامین کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہے؟ تو ماہرِ نفسیات یہاں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے اور وہ یہ بتاتا ہے کہ بچے کے ساتھ کیوں یہ مسئلہ ہے اور اسے کیسے بہتری کی جانب سے لے جایا جاسکتا ہے؟“
 


“ اسی طرح شادی شدہ جوڑوں کے مسائل ہوتے ہیں٬ ضروری نہیں کہ میاں بیوی دونوں کے دماغ آپس میں مطابقت رکھتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہوں- بعض اوقات شخصیات مختلف ہونے کی وجہ سے بھی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں- ایسے میں بھی ماہرِ نفسیات سے رابطہ کیا جاسکتا ہے- وہ دونوں کے مسائل سن کر دونوں کو میاں بیوی کے بجائے ایک دوسرے کا ساتھی بننے میں مددگار ثابت ہوسکے گا تاکہ یہ تعلق طویل مدت تک چل سکے“-

“ اس کے علاوہ خاندانی تنازعات بھی ہوتے ہیں٬ کبھی بچوں کو والدین سے اختلاف ہوتا ہے تو کبھی والدین کو بچوں سے- ان سب چیزوں کی وجہ سے ہمیں دباؤ کے علاوہ کئی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے- ہم ان معاملات پر بھی ماہرِ نفسیات سے بات چیت کرسکتے ہیں“-
 


“ غرض یہ کہ ہمیں معاشرے میں آگہی پیدا کرنا ہوگی اور لوگوں میں سے یہ خوف ختم کرنا ہوگا کہ ماہرِ نفسیات کے پاس جانے سے کوئی ان کے خلاف باتیں کرے گا یا مذاق اڑائے گا“-

“ اگر آپ کو کوئی اور بھی ان مسائل کا شکار دکھائی دیتا ہے اور اس کی روزمرہ کی سرگرمیوں میں بھی خرابی ہے جیسے کہ وہ لوگوں سے ملتا جلتا نہیں ہے٬ یا کھانا وقت پر نہیں کھاتا یا سوتا اور جاگتا وقت پر نہیں ہے تو آپ بھی ایسے انسان کی مدد کرسکتے ہیں اور اسے ماہرِ نفسیات کے پاس بھیج سکتے ہیں“-

 

 
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
13 Oct, 2017 Total Views: 3329 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
really nice suggestions and solutions. regards
By: M. Nawaz Memon, karachi on Oct, 14 2017
Reply Reply
1 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
According to Dr. Iqra, Psychiatric issues causes lot of problems. Moreover, people who are getting treated for psychiatric problems they face lot of backlash from people. Some categorize them as mentally sick, some put labels on them, make fun of them, or pass comments etc. This refrain them from visiting a Psychaitrist.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB