کشمیری شہدا کو دفنانے سے قبل دودھ کیوں پلایا جاتا ہے؟

(Khawaja Mussadiq Rafiq, Karachi)

کشمیری اپنے شہدا کو دودھ پلاتے ہیں اور وہ دودھ شہدا کے حلق سے اتر کر ان کے جسم میں داخل ہو جاتا ہے، یہ روایت اس وقت شروع ہوئی جب بھارتی قابض فوجیوں کی جانب سے اسلامی شعائر اور شہید سے متعلق اسلامی تعلیمات کا تمسخر اڑایا گیا جس کے بعد اسلامی تعلیمات اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے شہید کے زندہ ہونے کی گواہی سچ ثابت کرنے کیلئے کشمیریوں نے بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے اپنے شہدا کو دودھ پلانے کی رسم شروع کی۔

بتایا جاتا ہے کہ اب تک ہزاروں شہدا کو دودھ پلایا جا چکا ہے اور برہان وانی شہید اور سبزار شہید کو بھی دودھ پلانے کی یہ رسم ادا کی گئی تھی ۔ واضح رہے کہ میڈیکل سائنس اور صدیوں سے آئے مشاہدہ کے مطابق جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے تو اس کے جسم میں کسی بھی قسم کی غذا داخل نہیں ہو سکتی مگر کشمیر میں بھارتی قابض فوج نے جو پہلے شہدا کا تمسخر اور ان کی بے حرمتی کرتی رہی جب دودھ پلائی کی رسم دیکھی تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ شہدا کو پلایا جانے والا دودھ ان کے حلق سے با آسانی اتر رہا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے شہید دودھ پی رہا ہے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
10 Oct, 2017 Total Views: 3641 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB