شوہر کی غیرت -- عجیب مقدمہ

(Khawaja Mussadiq Rafiq, Karachi)

ایک عورت مکمل پردے کے عالم میں قاضی کے سامنے کھڑی تھی. اس نے اپنے شوہر کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا تھا. مقدمے کی نوعیت بڑی عجیب تھی کہ میرے شوہر کے ذمہ مہر کی 500 دینار رقم واجب الاداء ہے وہ ادا نہیں کر رہا لہٰذا مجھے مہر کی رقم دلائی جائے..

قاضی نے خاوند سے پوچھا تو اس نے انکار کر دیا. عدالت نے عورت سے گواہ طلب کیے.. عورت نے چند گواہ عدالت میں پیش کر دیے۔گواہوں نے کہا:" ہم اس عورت کا چہرہ دیکھ کر ہی بتا سکتے ہیں کہ یہ واقعی وہ عورت ہے جس کی گواہی دینے ہم آئے ہیں. لہٰذا عورت کو حکم دیا جائے کہ وہ اپنے چہرے سے نقاب ہٹائے۔" عدالت نے حکم دیا کہ عورت اپنے چہرے سے نقاب اتارے تاکہ گواہ شناخت کر سکیں.

ادھر عورت تذبذب کا شکار تھی کہ تھی کہ وہ نقاب اتارے یا نہیں۔۔۔گواہ اپنے موقف پر مصر تھے۔

اچانک اس کے شوہر نے غیرت میں آکر کہا" مجھے قطعاً یہ برداشت نہیں کہ کوئی غیر محرم میری بیوی کا چہرہ دیکھے... لہٰذا گواہوں کو چہرہ دیکھنے کی ضرورت نہیں .. واقعی اس کے مہر کی رقم میرے ذمہ واجب الاداء ہے...۔ عدالت ابھی فیصلہ دینے والی ہی تھی کہ وہ عورت بول اٹھی..!!۔ "اگر میرا شوہر کسی کو میرا چہرہ دکھلانا برداشت نہیں کرتا تو میں بھی اسکی توہین برداشت نہیں کر سکتی. میں اپنا مہر معاف کرتی ہوں. میں غلطی پر تھی جو ایسے شخص کے خلاف مقدمہ دائر کیا.."

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
08 Oct, 2017 Total Views: 2746 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB