برما --- اقوام متحدہ اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے ادا کرے

(Munir Bin Bashir, Karachi)

فیروز اللغات کا ایک قدیم نسخہ میرے پاس ہے - قدیم اس لحاظ سے کہہ رہا ہوں کہ تقریباً نصف صدی سے تو یہ میرے پاس ہے - اس سے پہلے دوسرے اصحاب کے پاس کتنا عرصہ رہا میں نہیں کہہ سکتا کیوں کہ یہ میں نے پرانی استعمال شدہ کتابوں کی دکان سے خریدا تھا - صفحات ہیں 1334 اور قیمت پندرہ روپے - لیکن استعمال شدہ ہونے کے سبب دکاندار نے آٹھ یا دس روپے لئے تھے اب سنا ہے یہ پندرہ سو روپے میں ملتا ہے -

اس کی ورق گردانی کر رہا تھا کہ ایک لفظ آنکھوں میں ٹھہر گیا - اس کے دو معنی لکھے تھے - ایک دوسرے سے بالکل مختلف -
لفظ تھا 'برما '
معنی تھے
(1) لکڑی میں چھید کر نے کا اوزار --- سنبہ
(2) ہندوستان کا انتہائی مشرقی صوبہ جسے برہما بھی کہتےہیں -
یہ دوسری سطر میں لکھے ہوئے معنی تھے جس نے یہ لفظ کو آنکھوں میں ٹھہرا دیا تھا - اور اس کے ساتھ ہی مختلف اخبارات و واقعات ‘ چھوٹے بھی بڑے بھی - مختلف تصاویر جعلی بھی اور اصلی بھی - لوگوں کے تبصرے ادنیٰ بھی اور اعلیٰ بھی سب آنکھوں کے سامنے آنے لگے اور جانے لگے - یہ سب وہاں پر حال ہی میں مسلمانوں پر ہونے والی زیادتیوں کی فریاد کر رہے تھے - کہیں ظلم و ستم کے پہاڑ تھے تو کہیں غارت گری کی لہریں - انسانی حقوق کو پامال کرتے ہوئے پُر تشدد وحشیانہ کاروائیاں ‘ انسانیت سوز مظالم ‘ عورتوں کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتیاں -
داد رسی کی کوئی بھی ہمدردانہ آواز جو اس ملک میں ان مظلوم مسلمانوں کے لئے اٹھی ہو سنائی نہیں دے رہی تھی البتہ دہائی اور آہ و فغاں کی دل خراش صدائیں کانوں میں گھسی جارہی تھیں‌- اور اور یہ خیالات مجھے اڑاتے ہوئے اس زمانے میں لے گئے جب یہ برما بھی سلطنت دولت برطانیہ کے ماتحت آگیا تھا برطانیہ نے اسے ہندوستان کے ایک صوبہ کی حیثیت دی ہوئی تھی - یہ وہ دور تھا جب کچھ خیر خواہان سلطنت انگریزیہ ایسے بھی نعرے لگایا کرتے تھے -
قائم یہ راج رہے
دائم یہ تاج رہے
دشمن ہوں چُور چُور
ڈنکا ہو دُور دُور
عالم تیری سرکار کا
دل میں یہ خیال آیا کہ اُس زمانے میں جب یہ برما حکومت انگریزیہ کے تحت تھا کیا ایسے حالات ہوتے تھے ؟
اگر ہوتے تھے تو کس سبب سے ؟
اور انگریز راج نے کیا حل نکالاتھا ؟

تاریخ پر نظر ڈالی تو یہ پتہ چلا کہ انگریزوں کے دور میں بھی اس قسم کے فسادات ہوا کرتے تھے -
اس دور میں فسادات کا ایک سبب یہ تھا کہ برطانیہ نے برما پر قبضے کے بعد مختلف قسم کے کاموں کے لئے ہندوستان کے افراد پر بھروسہ کیا اور انہیں لا کر یہاں بسانا شروع کیا - اس سے مقامی آبادی اور ہندوستانی آبادی میں دوری اور نفرت پیدا ہوئی - 1930 میں یہ نفرت فسادات کی صورت میں ظاپر ہوئی - اس میں ہندوستان کے ایک سو سے دو سو افراد مارے گئے - اس میں مختلف مذاہب کے افراد تھے -

اس کے بعد ایک اور فساد 1938 میں ہوا -
وکی پیڈیا میں اس 1938 کے ہنگاموں کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ انگریزوں کے خلاف اٹھی قوم پرستی کی لہر تھی لیکن اس نے مسلم دشمنی ہنگاموں کا روپ دھار لیا (کیونکہ یہ مسلمان انگریزوں کی لیبر فورس کا حصہ تھے ) اس میں قتل و غارت گری اور لوٹ مار کا سلسلہ اتنا پھیلا کہ 200 سے زاید مسلمان قتل کر دئے گئے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی - مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور لوٹ مار کی گئی - مسلمان بھاگ کر دوبارہ ہندوستان پناہ لینے کے لئے آگئے -

لیکن اس زمانے کے اخبارات کا جائزہ لیں تو دوسری کہانی نظر آتی ہے - اس زمانے یعنی 1938 کا روزنامہ انقلاب لاہور میرے سامنے ہے -
اس کا اداریہ پڑھنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان فسادات کا آغاز ایک کتاب کی اشاعت سے ہوا تھا - -
جو کسی مسلمان نے بدھ مت کے خلاف لکھی تھی اور بدھ اخبارات نے اس کی بنیاد پر مسلمانوں کے خلاف نہایت ہی زہریلا پروپیگنڈہ کیا
اداریہ لکھتا ہے کہ "مسلمان رہنماؤں کی شرافت دیکھئے کہ کسی ایک بھی ذمہ دار آدمی نے اس کتاب کی حمایت نہیں کی جو کسی مسلمان نے بدھ مت کے خلاف لکھی ہے - اور جسے برمیوں نے خونریزی کا بہانہ بنایا
اسلامی اداروں اور اسلامی انجمنوں نے اس کتاب کے خلاف نفرت کا اظہار کیا ہے - اور صاف صاف اعلان کیا ہے کہ ہم بانیان مذہب کی توہین ہر گز جائز نہیں سمجھتے - لیکن اس کے باوجود اھنسا کے سب سے بڑے مذہب کی آتش عناد ختم ہونے میں نہیں آرہی - بے شمار مسلمان شہید ہو چکے ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں - بیان کیا جاتا ہے کہ فسادات سے قبل کچھ پمفلٹ تقسیم کئے گئے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ ہندو مت اور بدھ مت ایک ہی مذہب کی د و شاخیں ہیں - اخبار "سن " اور اخبار "نیو لائٹ اف برما " کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف پر وپیگنڈا کیا جا رہا ہے - اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برما و ہندوستان کی غیر مسلم طاقتیں مسلمانوں کے خلاف متحد ہو رہی ہیں “

انگریزوں نے اس کے خلاف اقدامات کئے اور ستمبر 1938کو انکوائری کمیشن بٹھایا - اس کی انکوائری رپورٹ جو بنی تھی اس کی پی ڈی ایف نیٹ پر موجود ہے - اس رپورٹ میں تحقیقات کے افسران نے لکھا "ہم یہ بات جو کہ ہمارے سامنے لائی گئی ہے نہایت افسوس کے ساتھ بتا رہے ہیں کہ لوٹ مار کرنے والے افراد میں بدھسٹ بھی شامل تھے - ان کے ہاتھوں میں چاقو اور دیگر ہتھیار تھے - اور یہ بدھ افراد بے یار و مددگار ہندوستانیوں کے قتل و غارت گری - اپاہج و معذور بنانے کے ذمے دار تھے " انگریزوں کی اس رپورٹ کی پی ڈی ایف نیٹ پر موجود ہے -
http://www.tandfonline.com/doi/abs/10.1080/15570274.2015.1104974?src=recsys&journalCode=rfia20
آج بھی ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہے جو بغیر کسی لاگ لگاؤ کے غیر جانبدارانہ تحقیقات کر ے اور صحیح صورتحال سامنے لائے - اور یہ ادارہ ‘ اقوام متحدہ ‘ ہی ہے - دنیا کے تمام ممالک کو چاہئیے کہ اقوام متحدہ پر زور دیں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرے -

( اس کالم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے میں معروف مورخ جناب غلام رسول مہر مرحوم کے صاحبزادے امجد سلیم علوی کا شکر گزار ہوں جنہوں نے روزنامہ انقلاب کے پرانے شماروں تک رسائی کروائی -)
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
07 Oct, 2017 Total Views: 157 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Munir Bin Bashir

B.Sc. Mechanical Engineering (UET Lahore).. View More

Read More Articles by Munir Bin Bashir: 80 Articles with 81443 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB