ایک تفریح ۔ ایک ذمہ داری ۔ ۔ ۔

(ثاقب محسن, ڈیٹرائٹ، مشی گن)

بقرعید کی رونق، گہما گہمی اور اس سے ہونے والی تھکن کو ابھی ہفتہ بھی نہ ہوا تھا کہ وہاٹس ایپ فیملی گروپ پر ملنے والے پیغام نے تمام ممبرز کو ریچا رج کر دیا۔ جی ہاں، یہ فیملی گروپ کے لئے ساحلِ سمندر ہاکس بے پر پکنک کا پیغام تھا۔ بس پھر کیا تھا خاندان بھرکے افراد کی آرأ بھری پوسٹس آنا شروع ہوگئیں۔ بریانی لے کر جائیں، سیخ کباب کا سامان، قیمہ، گوشت، فٹبال، کرکٹ، فِرسبی، برتن، وغیرہ وغیرہ۔ غرض تمام تیاریاں شروع اور ذمہ داریاں بانٹ دی گئیں- یوں ہفتہ کی دوپہر تقریبا" ۲۰- ۲۵ افراد پہنچ گئے۔ ہٹ بھی کرائے پر پہلے ہی بُک کر لی گئی تھی۔ پہنچتے ہی پہلا کام ساحلِ سمندر کی سیر، نہانا، کھیل کود وغیرہ تھا اور تھک ہار جائیں تو واپس آکر کھائیں پئیں اور کچھ وقفےکے بعد پھر وہی کھیل کود۔ شام کے بعد بار بی کیو اور کھانے کا پروگرام تھا۔ جبکہ دوسرے روز کی اہم بات مقامی خان کے ہوٹل سے پراٹھے، انڈے اور چائے کا ناشتہ۔ یقینا" دائیں بائیں دوسری ہٹس بھی کچھ اسی طرح بھری ہوئی ہوں گی اور اندازے کے مطابق ایسی ہی سرگرمیاں جاری ہوں گی ۔ ۔ ۔

عید ہو یا بقرعید اور آپ کراچی میں ہوں تو ساحلِ سمندر کا رُخ کرنا لازمی ہو جاتا ہے۔ امیر ہو یا غریب، لوگ خواہ کسی بھی طبقئہ زندگی سے تعلق رکھتے ہوں ساحل سمندر پر جانا اور اس سے لطف اندوز ہونا ایک بہترین تفریح تصور کیا جاتا ہے۔ وہاں جا کر کیا کرنا ہے؟ اس کا انحصار اپنے اپنے پلان اورشوق پر ہے، لیکن ایک بات بہرحال مشترک ہے کہ ساحلِ سمندر کی ہوا اور پانی بڑی فراخدلی کے ساتھ بلا امتیاز و تفریق ہر آنیوالے کا استقبال کرتے ہیں اور بلا معاوضہ ایک بہتریین صحت مند تفریح کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اس معیار کی کوئی دوسری بھرپور اور آسان تفریح ڈھوننڈنا مشکل ہے جس میں کہ خاندان کے ہر فرد کے لئے یکساں دلچسپی کا سامان موجود ہو۔

بچوں کے وہاٹس ایپ پر بروقت پیغامات اور دلچسپ تصاویر نے سات سمندر پار ہونے کے باوجود ہمیں بھی پکنک کا حصہ بنائے رکھا۔ ہمارے یہاں شام ہوئی یعنی کراچی میں رات ہو چکی تھی۔ پاکستانی ٹی وی چینل پرخبریں لگا ئیں اور شام کی چائے کے مزے لینے شروع کئے ہی تھے کہ اسی دوران کراچی کے ساحلِ سمندر پر اندوہناک حادثے کی بریکنگ نیوز نے چونکا دیا۔ گھبرا کر کال کرنے کے بجائے مزید تصاویراپ لوڈ کرو وغیرہ کے میسجز بھیجے۔ اور جلد ہی رات گئے تک جاگنے والے سوشل میڈیا کے رسیا بچوں نے فورا" ہی تازہ تصاویر پوسٹ کردیں۔ کسی فوٹو میں سیخ کباب بن رہے ہیں، کھانا ہو رہا ہے تو کسی فوٹو میں کوئی سو رہا ہے۔

دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا اور ساتھ ہی ساحلِ سمندر پر پکنک کے لئے جانیوالے تمام دوسرے لوگوں کی سلامتی کے لئے بھی دل سے دعائیں نکلتی رہیں۔ دیر تک ٹی وی کی خبر اور تفصیلات نے مغموم کئے رکھا اور ساتھ ہی کچھ سوچنے پر مجبور بھی کیا۔

شہری حکومت کن ترجیحات پر کام کرتی ہے، سب جانتے ہیں عید اور بقرعید کے سیزن میں ہر دوسرا گھرانہ ساحلِ سمندر کا رُخ ضرور کرتا ہے، لیکن پھر بھی فرض سے کیونکر یہ بے رُخی؟ کیا ہی بھلا ہو کہ فنڈز کا صحیح استعمال کیا جائے اور لوگوں کی سہولت و سلامتی کے لئے اقدمات کئے جائیں۔ پابندی کے دنوں میں ساحلِ سمندر سیروتفریح کے لئے مکمل بند کیوں نہیں کر دیتے۔ یہ تو وہ بات ہوئی کہ چاکلیٹس بچے کے پاس رکھ دیں اور کہیں کھانا منع ہے۔ دوسرے دنوں میں سمندر میں نہانے اور چہل قدمی کے لئے علیحدہ حصے مختص کئے جائیں۔ حفاظت کے لئے تربیت یافتہ لائف گارڈز ہر وقت ڈیوٹی پر موجود رہیں۔ لوگوں کو مختلف اقسام کی لائف ویسٹ یا جیکٹس قیمت پر یا کرائے پر مہیا کی جائیں۔ پانی کی گہرائی کی نشاندہی کرنے والے نشانات لگائے جائیں اور مخصوص گہرائی کی حد تک جانے کی اجازت ہو۔

دوسری جانب خیال آیا کہ یہ سب ہو بھی جائے تو بھی ایک اہم بات کا کھٹکا تو پھر بھی ہے۔ اور وہ ہے تیراکی سے ناواقفیت۔ بہت ممکن ہے ایک سے دو فیصد لوگوں کو تیراکی یا سوئمنگ آتی ہو لیکن اُس میں سے بھی کتنے سمندر میں تیراکی کر سکتے ہیں؟ تیراکی اگر اسکول کی عمرسے سیکھی جائے تو انسان ایک مّشاق سوئمر بن سکتا ہے، جبکہ کم از کم سطح آب پر رہنے یا فلوٹ کرنے کا گُر کسی بھی عمر میں سیکھا جاسکتا ہے۔ جو کچھ بھی نہیں جانتے ان کے لئے فرض کیجئے کہ ایسے شوقین اگر لائف ویسٹ یا جیکٹ پہن کر اپنا شوق پورا کریں اور ساتھ ہی ماہر لائف گارڈ بھی ڈیوٹی پر موجود ہو تو ان کو کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ کافی حد تک ختم یا کم ہوجائیگا۔

بہت سے لوگ شادی و مہندی کی میوزکل تقریب کے لئے ڈی جے کا انتظام کر لیتے ہیں، بقرعید پر قصائی سے معاہدہ کر لیتے ہیں، تو کم از کم وہ لوگ ساحلِ سمندر پکنک کے لئے کسی تجربہ کار لائف گارڈ کا انتظام کیوں نہیں کر سکتے کر سکتے۔ ممکن آپ اپنے ساتھ اطراف میں آئے دوسرے لوگوں کی سلامتی کا ذریعہ بھی بن سکیں۔

شہری انتظامیہ کو ساحلی علاقوں کی ماہی گیر بستیوں کے جوانوں کو سوئمنگ انسٹرکٹر، غوطہ خور اور لائف گارڈ بننے کی حوصلہ افزائی اور مواقع فراہم کرنا چاہئیں۔ جس سے سیرو تفریح کے لئے آنیوالوں کو تحفظ کے ساتھ ساتھ ساحلی علاقوں کی بستیوں میں معاشی ترقی کے موزوں زرائع میّسر آسکتے ہیں۔
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
16 Sep, 2017 Total Views: 298 Print Article Print
NEXT 
About the Author: ثاقب محسن

Read More Articles by ثاقب محسن: 3 Articles with 403 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
حقیقت بتارہے ہیں اور ہمیں بھی کچھ اس طرف کچھ کرنا چاہیے
By: Sayyad, Karachi on Sep, 20 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB