تازہ ترین چٹکلے

(Hukhan, karachi)

پاکستانی قوم میں اک بہت بڑی خوبی ہے ،،،اسے جس کام سے منع کرو ،،،وہی کرتی ہے،،،
اک صاحب کا گھر گلی کے ایسے کونے یا یوں کہہ لیں آخری نکڑ پر تھا،،،اس نےگھرکوبڑا خوب
خرچا کرکے بنایا،،،مرزاصاحب سے بولے‘‘،،مرزا کیسا گھر ہے؟؟
مرزا سدا کے جلے بھنے انسان،،بولے واہ واہ کیا کہنے،،،اس قدر حسین گلشن تمہارا،،،دیکھ کے
دل گیا مارامارا،،،جھٹ اپنی ایک سو تیئس (١٢٣)روپے والی نئی گھڑی کو دیکھ کر بولے،،،
بج گئے پورے پونے بارہ،،،مالک مکان خوش ہو کے بولے‘‘واہ واہ مرزا صاحب،،کمال کرتے ہو
یہاں بھی شعر بول گئے،،،مرزا جھٹ سے بولے،،،ارے نہیں میاں،،،غور کیجئے ہماری کلائی میں
پندرہ سو والی گھڑی ہے،،،آپ کو شاعری کی پڑی ہے،،،اب ان صاحب نے مرزا کی کلائی ایسے تھامی
جیسے مرزا نے کبھی مسز مرزا کی بھی نہ تھامی ہوگی،،،جھٹ سے بولے،،،بھائی گھڑی تو ہماری بس
نوے روپے والی ہے مگر ٹائم آپ کی پندرہ سو والی جیسا ہی بتاتی ہے،،،پھر فضول خرچی کاہے کی،،،
مرزا کا منہ ایسے اترگیا جیسے،،،شادی کی پہلی رات مسز مرزا کا مکھڑا دیکھ کر اترا تھا،،،
اب تک ان کا منہ واپس نہیں چڑھ پایا،،،یو کِین سے مس پلیس فیس،،،مرزا جل کے بولے،،،
میاں جب اتنی عقل ہے تو بند گلی کے اس آخری سرے پر کاہے کو مکان بنایا،،،یہاں کون آئے گا
دیکھنے،،،خواہ مخواہ لاکھوں لگا دئیے،،،اب سب کو پکڑ پکڑ کے دکھاؤ،،،کہ کیسا لگ رہا ہے،،،
وہ صاحب اداس سے ہو گئے،،،ان کے اندر موجود انٹیرئر ڈیزائنر فوت ہونے کو تھا،،،
ہم حسبِ معمول اپنی پنکچر سائیکل کو اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھائے آرہے تھے،،،ہم اپنے محلے میں
کنگلے دانشور کے طور پر مشہور تھے،،،انہوں نے ہمیں دیکھتے ہی نعرہِ مستانہ بلند کیا،،،
سائیکل پوری شدت سے ہمارے کندھوں سے ہمارے پاؤں پر آگئی،،،ہماری ‘‘اف‘‘جو کہ ہر وقت
مصیبت کی طرح ہمارے اندر سے نکلنے کو بے تاب رہتی ہے،،،جھٹ سے باہر نازل ہو گئی،،،
وہ بولے ‘‘بھائی لعنت بھیجو اف پر،،،یہاں لاکھوں لگا دئیے،،،تعریف کا ذرا سا چھڑکاؤ بھی نصیب نہ ہوا
ہمارے کان واہ واہ کو ترس گئے،،،ہمیں مشاعرے میں پڑھی ہوئی پوئٹری یاد آگئی،،،
مجال کہ سوائے ان بچوں کےجنہیں ہم بیس۔۔بیس روپے دے کر اپنی سائیکل پر لاد کر لاتے ہیں
کوئی واہ واہ کردے،،،خیر،،،آج ہمیں اپنا اور ان کا دکھ سانجھا لگا،،،عجیب بات ہے
لوگ دکھ میں سانجھے ہوتے ہیں ،،،خوشی میں پوچھتے بھی نہیں،،،ماں بہنیں سانجھی ہوتی
اور جب کہو(بیگمات سانجھی کیوں نہیں؟) بس پھر جوتے پڑنے لگتے،،،عجیب دوغلا معاشرہ
ہمیں سمجھ نہیں آتا،،،خیر ،،،ہم نے ان کادکھڑا سنا اور ان کے کان میں کچھ پھونکا،،،
وہ خوشی سے سرہلا کے نو۔۔دو۔۔گیارہ،،،اگلے دن تو گلی میں رش تھا،،،اک آتا۔۔دوسرا جاتا
ان کے مکان کے درشن کر کے ہی لوٹ کرآتا،،،ہم نے بس اتنا کہا تھا کہ لکھ کے لگا دو
‘‘اس گلی میں گھسنا منع ہے‘‘،،،پھر کیا تھا قوم کو لاسٹ میں مکان کے درشن کرکے پتا چلتا تھا
کہ آگے سے گلی بند ہے واپس چلو،،،واہ رے میری قوم،،،جس کام سے منع کرو۔۔وہی۔۔۔
یقین نہ ہو تو گھر کے باہر لکھوا کے دیکھو‘‘یہاں کچرا پھینکنا منع ہے،،،ٹرائے اِٹ،،،خود کو ہی
دیکھ لیجئے،،،پرانا چٹکلا پڑھ لیا،،،نیا سمجھ کے،،،میرے دوستو! پاکستان میں بھی کوئی چیز
تازہ ہوئی ہے؟؟،،،پھر چٹکلا تازہ کیوں اور کیسے؟؟؟

 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
13 Sep, 2017 Total Views: 527 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 772 Articles with 287133 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
wah wah mzaydaar
By: rahi, karachi on Sep, 15 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Sep, 15 2017
0 Like
great humor with new spices
By: sohail memon, karachi on Sep, 13 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Sep, 14 2017
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB