برما اور منافقت

(نذر حافی, islamabad)

برما کے مسلمان اس لئے مظلوم نہیں ہیں کہ ان پر ایک کافر حکومت مسلط ہے بلکہ وہ اس لئے مظلوم ہیں کہ ان کی مدد کے نعرے لگانے والے اکثر لوگ خودقاتل، ظالم، متعصب ، فرقہ پرست اور کفار کے ہم نوالہ و ہم پیالہ ہیں۔

مجھے چھوڑیے، میری باتوں کو بھی رہنے دیجئے، آپ اپنی ہی بات کیجئے ، صرف یہ بتائیے کہ اگر کوئی بے نمازی آپ کو نماز پڑھنے کا درس دے تو اس کا کتنا اثر ہوگا۔۔۔!؟ اگر کوئی جھوٹا آپ کو سچ بولنے کے لیکچر دے تو اس کی کتنی تاثیر ہوگی۔۔۔!؟ اگر کوئی غنڈہ آپ کو قانون کا احترام کرنے کا سبق پڑھائے تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔۔۔!؟

آپ کی طرح میں بھی برما کے مسلمانوں کی حالت پر کڑھتا ہوں، ان کی مظلومیت بھری ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے دیکھتا ہوں۔۔۔نجانے کیوں زمین پھٹ نہیں رہی اور آسمان گر نہیں رہا۔۔۔
البتہ تعجب کی بات یہ ہے کہ ان ویڈیوز اور تصاویر کو وہ لوگ زیادہ سے زیادہ شئیر کر رہے ہیں جو خود ہر ظلم میں پیش پیش ہوتے ہیں۔مشال خان کا قتل درست تھا یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے لیکن اسے جس درندگی کے ساتھ قتل کیا گیا اس درندگی کی مذمت کی ضرورت تھی لیکن بڑے بڑے نامی گرامی لوگوں نے اس درندگی کی مذمت نہیں کی۔
آج وہ لوگ برما میں ہونے والے ظلم پر مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں جو مشال خان پر ہونے والے ظلم پر بغلیں بجا رہے تھے۔

ابھی کچھ دن پہلے ایک سکول میں شمرون مسیح کو بھی مشال خان کی طرح بربریت کے ساتھ قتل کیا گیا لیکن میڈیا نے اس کی خبر تک نہیں چلائی ، اور ہمارے ملکی، سیاسی و دینی اکابرین نے اس واقعے کی مذمت کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا، لیکن آج وہی اکابرین اور وہی میڈیا برما کے لئے چیختا پھرتا ہے۔۔۔!
سانحہ راولپنڈی میں عاشور کے روز وحشت و بربریت کے ساتھ بے گناہ لوگوں کو جان سے مار دیا گیا، نفرت اور دشمنی کی مزید آگ بڑھکانے کے لئے شیعہ سُنّی تنازعہ کھڑا کیا گیا لیکن یہ کس قدر شرمناک بات ہے کہ حقیقت میں اس مدرسے پر حملہ کرنے والے خود اسی فرقے کے لوگ تھے جن کا مدرسہ تھا۔اس امر پر جتنا بھی افسوس کیا جائے وہ کم ہے کہ راولپنڈی میں لوگوں نے ایک دوسرے فرقے کو بدنام کرنے کے لئے اپنے ہی فرقے کے مدرسے کو آگ لگا دی ۔

آج وہی متعصب اور فرقہ پرست لوگ برما میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات پر ٹسوے بہا رہے ہیں۔
پاکستان میں کتنے ہی فوجی جوانوں کے گلے کاٹے گئے اور کتنے ہی پولیس والوں کو شہید کیا گیا، ضرورت تھی کہ ہم اپنی فوج اور پولیس سے محبت کے اظہار کےلئے ایک قومی بیانیہ تشکیل دیتے لیکن آج وہ لوگ پاکستانی فوج کو برما پر حملہ کرنے کی کہہ رہے ہیں جو پاک فوج کو ناپاک فوج کہتے ہیں اور پاک فوج کے کئی شہیدوں کے قاتل ہیں۔

کیا آرمی پبلک سکول پشاور میں جو ننھے منھے بچے شہید ہوئے ان کا خون قیمتی نہیں تھا۔۔۔۱؟یہ کس قدر منافقت ہے کہ وہ لوگ جو آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے کے پشت پناہ تھے آج وہ میانمار میں ہونے والے بچوں کے قتل پر سینہ کوبی کر رہے ہیں۔

یمن اور بحرین میں مسلسل انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں، کتنے ہی سالوں سے عام لوگ محاصرے اور قحط کے شکار ہیں، غذائی قلت کے باعث سینکڑوں بچے موت کے شکار ہو چکے ہیں ، جو لوگ یمن اور بحرین میں بمباری ہونے پر جشن مناتے ہیں وہی اس وقت میانمار میں انسانی حقوق کی پامالی کا ناقوس بجا رہے ہیں۔

سرزمینِ حرم پر اسلامی ممالک کے سربراہوں کو جمع کر کے ٹرمپ سے خطبہ دلوایا گیا ، اس کو کسی نے اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی نہیں کہا، آج امریکہ کی ہی ایما پر سرمایہ دارانہ نظام کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے برما کے مسلمانوں کا قتلِ عام کیا جا رہا ہے ، یہ کیسا تضاد ہے کہ ٹرمپ کی ریاض میں آمد پر رقص کرنے والے آج برما کی حکومت کو کافر کہہ رہے ہیں۔

یقین جانئے اگر ٹرمپ کی ریاض آمد کے موقع پر رقص کرنے کے بجائے احتجاج کیا جاتا اور ٹرمپ کی چاپلوسی کے بجائے دنیا بھر کے مسلمانوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھائی جاتی تو آج برما کی حکومت کو قطعا ایسا کرنے کی جرات نہ ہوتی۔

مجھے چھوڑیے، میری باتوں کو بھی رہنے دیجئے، آپ اپنی ہی بات کیجئے ، صرف یہ بتائیے کہ اگر کوئی خودمتعصب ہو، قاتل ہو، ظالم ہو ، درندہ ہو، وحشی ہو، جھوٹا ہو، مکار ہو،قانون شکن ہو، فرقہ پرست ہو اور دوسروں کو انسانیت اور شرافت کے درس دے تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔۔۔!!!؟؟؟

برما کے مسلمان اس لئے مظلوم نہیں ہیں کہ ان پر ایک کافر حکومت مسلط ہے بلکہ وہ اس لئے مظلوم ہیں کہ ان کی مدد کے نعرے لگانے والے اکثر لوگ خودقاتل، ظالم، متعصب ، فرقہ پرست اور کفار کے ہم نوالہ و ہم پیالہ ہیں۔

یقین جانئے جب تک ہم اپنی صفوں سے تعصب، شدت پسندی ، قانون شکنی اور فرقہ واریت کو ختم نہیں کرتے ، اس وقت تک ہم میانمار کے مسلمانوں کی حقیقی معنوں میں مدد نہیں کر سکتے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
12 Sep, 2017 Total Views: 303 Print Article Print
NEXT 
About the Author: nazar

Read More Articles by nazar: 24 Articles with 2616 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
مضمون نگار کی باتوں کا خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ ہمیں میانمار کے مسئلے پر بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس طبقے کی انہوں نے نشاندہی کی ، میانمار کے لیے بھی اسی طبقے نے آواز اٹھائی البتہ جو طبقہ مشعال خان کے لیے روز چیخ رہا تھا انہوں نے اس پر بات کرنا گوارہ نہیں کیا نہ صرف یہ کہ بات کرنا گوارہ نہیں کیا بلکہ صاحب مضمون کی طرح کئی لوگ ہیں جو مسئلے کی اہمیت کو گھٹانے کے لیے اس مسئلے کو پاکستان میں اقلیتوں کے مسائل سے جوڑ رہے ہیں۔ حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔
پہلی بات تو یہ کہ مشعال خان کو مدرسے کے طلبہ نے نہیں بلکہ یونیورسٹی کے طلبہ نے قتل کیا۔کسی مذہبی جماعت نے نہیں بلکہ خود اے این پی ( جس کا وہ کارکن بھی تھا) کے لوگوں نے قتل کیا۔ اس لیے مشعال خان کے معاملے کو مذہبی جماعتوں کے کھاتے میں ڈالنا انتہا درجے کا جھوٹ اور ڈھٹائی ہے۔
دوسری بات یہ کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ اگر کوئی زیادتی ہوتی ہے تو وہ انفرادی طور پر کسی جگہ ہوتی ہے اور معاشرے کی اکثریت اقلیتیوں کا احترام کرتی ہے۔ اس کے علاوہ حکومتی سطح پر ان پر کسی قسم کا کوئی دبائو یا زیادتی نہیں کی جاتی ۔
لیکن میانمار میں بحیثیت مجموعی وہاں کے معاشرے کے عوام کی اکثریت ان پر ظلم میں شریک ہے۔ میانمار میں ریاستی سطح پر مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔
اس لیے براہ مہربانی میانمار کے مسئلے کی آڑ میں مذہبی جماعتوں کو معطون نہ کیا جائے۔
By: Saleem Ullah Shaikh, Karachi on Sep, 18 2017
Reply Reply
0 Like
bilkul sahi
i agree with your views about "برما اور منافقت"
jazak Allah ho khair
stay blessed always
By: uzma, Lahore on Sep, 14 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB