جامِ ساقی

(Zuha Khaliq, )

خاموش نظر،بکھرے خیالات،بند دریچے،بڑھتی ہوئی گھٹن اور اٹھتے ہوئے طوفان۔ہر طرف ایک بےچینی اور بے حسی پھیلی ہوئی ہے۔انسانیت کس کو کہتے ہیں شاید کسی کو اب یاد نہیں ۔عہد وفا شاید اب کسی کو یاد نہیں۔ہاں اگر یاد ہے تو کرسی یاد ہے۔اور اتنا یاد ہے کہ اس کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آتا۔

ایک اور تصویر بھی ہے۔۔۔۔۔گولیاں ہیں،بارودہے،لاٹھیاں ہیں،آہیں ہیں،سسکیاں ہیں،لہو ہےاورخشک آنسوسے بھری ماں کی آنکھیں ہیں۔بھائی کی واپسی کی ےاس لیے بہن ہے،بازو کی تلاش گمشدہ میں مصروف بھائی ہے اور ایک بے بس اور لاچار باپ ہے۔جس کی نظر اپنے نورِنظر کو تلاش کرتے کرتے خود کہیں کھو گئی ہے۔

70 سالوں سے پاکستان کی شہ رگ کی یہ حالت ہے۔گھر گھر داستانِ غم بکھری پڑی ہے۔کشمیری اپنا لہو لہو آزادی کی راہوں میں بکھر کر اک الگ ہی داستان رقم کر رہے ہیں۔جس کی مثال اقوامِ عالم سے ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ناکردہ گناہوں کی سزا بگھت رہے ہیں۔وہ جنت جسے اب جیل بنادیا گیا ۔

لیکن سلام کشمیریوں کے جذبوںکو جو سمندر سے گہرے اور اآسمان سے بلند ہیں۔جو
"پاکستان کا مطلب کیا ،لاالہ الااللہ" اور" کشمیر بنے گا پاکستان" اور اس کے ساتھ ساتھ جواہر لال نہرو یورسٹی میں "کشمیر کی آزادی تک جنگ جاری رہے گی"اور بھارت کی بربادی تک جنگ جاری رہے گی" کے نعرے لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں

کشمیری اپنا تن من دھن سب کچھ پاکستان پر قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ان کی امید اور نظریں ہر وقت یہ سوال پوچھتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں کہ

جو عہد ہم سے کیا ہے تم نے
وہ عہد کب تم کرو گے پورا

دراصل قصور ہمارے حکمرانوں کا بھی نہیں ہے اب وہ بچارے اپنا داغدار دامن لے کر کشمیر تو آزاد نہیں کروا سکتے اس لیے پانامہ کے جھگڑے نپٹانے میں مصروف ہیں۔کیونکہ کشمیر تو آزاد ہوتا ہی رہے گا(حکومت کی حرکتوں کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ وہ ایسا ہی سوچتے ہیں)
لیکن اگر اپنی گردن شکنجے میں آئی تو پکی پکی آزادی مل جائے گی(زندگی سے)

اور حد تو یہ ہے کہ آواز بلند کرنے والوں کو نظر بند کیا جارہا ہے۔بھلے ہی کوئی بھی وجہ ہو لیکن اصل وجہ اس ٹرمپ کی خوشنودی کا حصول ہے۔

آج اس جمہوری ملک میں جمہوری طریقوں سے براجمان حضرات خود ہی جمہیوریت کی دیجیاں اڑا رہے ہیں۔اٹھنے والی آوازوں کو بند کردیا گیا ہے۔تازہ ہواکےدریچے بند کردئیے گیے ہیں۔گل کی جگہ کانٹے بکھیر دئیے گئییے ہیں اور سب سے بڑی بات نوجوان نسل کو جامِ غفلت پلا کر لمبی نیند سلا دیا گیا ہے۔

اگر کوئی سچ بولنے کی کوشش بھی کرے تو زبان کاٹ لی جاتی ہے۔شاید دنیا کا قانو ن اسی کو انصاف کہتا ہے
لیکن اے نو جوانو!یاد رکھو کشمیر ہمارا تھا ،ہمارا ہے اور ہمارا رہے گا انشاءاللہ
اٹھو جام ساقی توڑ کر ہوش میں آؤ اور اپنا مذہبی فریضہ سر انجام دو کیونکہ

جب اس انگارہ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیدا

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
12 Sep, 2017 Total Views: 103 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Zuha Khaliq


Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB